انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 430

۴۳۰ اس کا مولف بھی اسلام کی مالی وجانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم دیکھی جاتی ہے ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتا دے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ وبرہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ کیا گیا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشان دہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی وجانی وقلمی ولسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑہ اٹھا لیا ہو اور مخالفین اسلام اور منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدّی کیساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ ومشاہدہ کرے اور اس تجربہ اور مشاہدہ کا غیر اقوام کو مزہ بھی چکھا دیا ہو۔یہ رائے آپ کے چال چلن اور خدمت اسلام کی نسبت اس شخص کی ہے جس نے آپ کے دعوٰئے مسیحیت پر ان اہل مکہ کی طرح جن کی زبانیں رسول کریم ﷺکو امین وصادق کہتے ہوئے خشک ہوتی تھیں نہ صرف آپ کے دعوٰے کا انکار کیا بلکہ اپنی باقی عمر آپ کی تکفیر اور تکذیب اور مخالفت میں بسر کر دی- مگر دعوے کے بعد کی مخالفت کوئی حقیقت نہیں رکھتی- قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص باوجود بتیس دانتوں میں آئی ہوئی زبان کی طرح مخالفوں اور دشمنوں کے نرغہ میں رہنے کے ہر دوست ودشمن سے اپنی صداقت کا اقرار کروالے اور پھر وہ ایک ہی دن میں اللہ تعالیٰٰ پر جھوٹ باندھنے لگے- اللہ تعالیٰٰ ظالم نہیں کہ ایسے شخص کو جو اپنی بے عیب زندگی کا دشمن سے بھی اقرار کروا لیتا ہے یہ بدلہ دیکر ایک ہی دن میں اشرالناس بنا دے اور یا تو بڑے سے بڑا لالچ اور مہیب سے مہیب خطرہ اسے صداقت سے پھیر نہیں سکتا تھا اور یا پھر اللہ تعالیٰٰ اس کے دل کو ایسا مسخ کر دے کہ وہ اچانک اس پر جھوٹ باندھنا شروع کر دے- جس طرح رسول کریم ﷺنے اپنے مخالفوں کو چیلنج پر چیلنج دیا کہ وہ آپ کی پہلی زندگی پر حرف گیری کریں یا بتائیں کہ وہ آپ کو اعلیٰ درجہ کے آخلاق کا حامل نہیں سمجھتے تھے مگر کوئی شخص آپ کے مقابلے پر نہ آیا، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا کہ اللہ تعالیٰٰ مجھے بتاتا ہے کہ کبھی کوئی مخالف تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگا سکے گا اور پھر اس دعوے کے مطابق متواتر مخالفوں کو چیلنج دیا کہ وہ آپ کے مقدس چال چلن کے خلاف کوئی