انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 390

۳۹۰ دعوۃالامیر دوسری دلیل شہادتِ حضرتِ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دلیل سے تو یہ ثابت ہوتا تھا کہ یہ زمانہ ایک مصلح کو چاہتا ہے اور چونکہ اور کوئی مدعی اسلام کی شوکت کے اظہار کا نہیں ہے اس لئے حضرت اقدسؑ مرزا صاحبؑ کے دعوے پر غور کرنے پر ہم مجبو رہیں، لیکن چونکہ حضرت اقدسؑ ؑ کا دعویٰ صرف ایک مصلح ہونے کا نہیں ہے بلکہ آپ کا دعویٰ موعود مصلح ہونے کا ہے یعنی آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ مسیح موعود اور مہدی مسعود ہیں اس لئے اس دعویٰ کی تائید مزید کے لئے میں ایک اور شہادت پیش کرتا ہوں اور یہ شہادت سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور بنی نوع انسا ن میں سے آپؐ کی شہادت سے زیادہ اور کس کی شہادت قابل قبول ہو سکتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیح کی آمد ثانی کا عقیدہ اسلامی زمانے سے شروع نہیں ہوا بلکہ یہ عقیدہ امت موسویہ میں سینکڑوں سال بعثت محمد یہ سے پہلے کا رائج ہے، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلام نے اس عقیدے کے بعض ایسے امور کو منضم کر دیا ہے جن کی وجہ سے یہ عقید ہ اسلام کے اہم عقائد میں شامل ہو گیا ہے اور وہ باتیں یہ ہیں: ۱۔مسیح موعود کے زمانے میں ایک مہدی کے آنے کی خبر دی گئی ہے جسے گو دوسری احادیث میں لَا الْمَھْدِیُّ اِلَّاعِیْسٰی (ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدّۃ الزّمان مطبوعہ بیروت ۱۹۸۸ ء )کہہ کر مسیح موعود کا ہی وجود قرار دیدیا گیا ہے ، مگر اس پیشگوئی کی وجہ سے مسلمانوں کو مسیح کے وجود سے ایسی قومی وابستگی ہوگئی ہے جیسے کہ ایک اپنے ہم ملت بزرگ سے ہونی چاہئے۔۲۔مسیح کی آمد کو اسلام کی ترقی کا ایک نیا دور قرار دیا گیا ہے اور اسی کی آمد کے وقت تک دیگر ادیان پر غلبہ اسلام کو ملتوی کیا گیا ہے۔۳۔مسیح ؑاور مہدی ؑ کو ایک قرار دیکر مسیح ؑکی آمد کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد قرار دیا گیا ہے اور اس کے دیکھنے والوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اور اس طرح عاشقانِ رسالت مآب کے دل میں مسیح ؑکا ولولہ انگیز شوق پیدا کر دیا گیا۔