انوارالعلوم (جلد 7) — Page 362
۳۶۲ اور سید الانبیاء کی آمد پر یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اب ہماری روحانی ترقیات کے لئے نئے دروازے کھُل جائیں گے اور اپنے محبوب رب العالمین کے اور بھی قریب ہو جائیں گے،لیکن نتیجہ نعوذ باللہ من ذالک یہ نکلا کہ آپؐ نے آکر جو دروازے پہلے کھلے تھے اُن کو بھی بند کر دیا۔کیا کوئی مومن رسول کریم ؐ کی نسبت اس قسم کا خیال ایک آنِ واحد کے لئے بھی اپنے دل میں آنے دے سکتا ہے ؟کیا کوئی آپؐ کا عاشق ایک ساعت کے لئے بھی اس عقیدہ پر قائم رہ سکتاہے؟ بخدا آپؐ برکت کا ایک سمندر تھے اور روحانی ترقی کا ایک آسمان تھے جس کی وسعت کو کوئی نہیں پا سکتا۔آپؐ نے رحمت کے دروازے بند نہیں کر دئیے بلکہ کھول دئیے ہیں اور آپؐ میں اور پہلے نبیوں میں یہ فرق ہے کہ ان کے شاگرد تو محدثیت تک پہنچ سکتے تھے اور نبوت کا مقام پانے کے لئے ان کو الگ تربیت کی ضرورت ہوتی تھی مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی میں ایک انسان نبوت کے مقام تک پہنچ جاتا ہے اور پھر بھی آپ ؐ کا اُمتی رہتا ہے اور جس قدر بھی ترقی کرے آپؐ کی غلامی سے باہر نہیں جا سکتا۔اس کے درجہ کی بلندی اسے اُمتی کہلانے سے آزاد نہیں کر دیتی بلکہ وہ اپنے درجہ کی بلند ی کے مطابق آپؐ کے احسان کے بار کے نیچے دبتا جاتا ہے کیونکہ آپ ؐ قرب کے اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جس تک دوسروں کو رسائی نہیں ہوئی اور آپؐ نے اس قدر بلندی کو طے کر لیا ہے جس تک دوسروں کا ہاتھ بھی نہیں پہنچا اور آپؐ کی ترقی اس سُرعت سے جاری ہے کہ واہمہ بھی اس کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔پس آپؐ کی اُمت نے بھی آپؐ کے قدم بڑھانے سے قدم بڑھایا ہے اور آپؐ کے ترقی فرمانے سے ترقی کی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقام جو اوپر بیان ہوا ہے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس قسم کی نبوت کا سلسلہ آپؐ کے بعد جاری سمجھیں کیونکہ اس میں آپؐ کی عزت ہے اور اس کے بند کر نے میں آپؐ کی سخت ہتک ہے۔کون نہیں سمجھ سکتا کہ لائق استاد کی علامت یہ ہے کہ اس کے لائق شاگرد ہوں اور بڑے بادشاہ کی علامت یہ ہے کہ اس کے ماتحت بڑے بڑے حکمران ہوں۔اگر کسی استاد کے شاگرد ادنیٰ درجے کے ہیں تو اسے کوئی لائق استاد نہیں کہہ سکتا اور اگر کسی بادشاہ کے ماتحت ادنیٰ درجے کے لوگ ہوں تو اسے کوئی بڑا بادشاہ نہیں کہہ سکتا۔شہنشاہ دُنیا میں عزت کا لقب ہے نہ کہ ذلّت اور حقار ت کا۔اسی طرح وہ نبی ان نبیوں سے بڑا ہے جس کے اُمتی نبوت کا مقام پاتے ہیں اور پھر بھی اُمتی ہی رہتے ہیں۔