انوارالعلوم (جلد 7) — Page 350
۳۵۰ دعوة الا میر کہا جاتا ہے کہ اگر قرآن کریم اور احادیث سے حضرت مسیح ؑکی وفات بھی ثابت ہو تی ہو تب بھی احادیث میں چونکہ مسیح ابن مریم کے آنے کی خبردی گئی ہے انہیں کی آمد پر یقین رکھنا چاہئے کیونکہ کیا اللہ تعالیٰ قادر نہیں کہ ان کو پھر زندہ کر کے دُنیا کی اصلاح کے لئے بھیج دے اور ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم گویااللہ تعالیٰٰ کی قدرت کے مُنکر ہیں ، مگر بات یہ نہیں بلکہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔ہم خدا تعالیٰ کی قدرت کے انکار کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی قدرت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اس امر کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح ناصریؑ کو خدا تعالیٰ زندہ کر کے نہیں بھیجے گا بلکہ اسی اُمت کے ایک فرد کو اس نے مسیح موعود بنا کر بھیج دیا ہے۔ہم نہیں سمجھ سکتے اورنہ ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی شخص بھی جو پورے طور پر اس امر پر غور کرے گا ، تسلیم کر ے گا کہ مسیح کادوبارہ زندہ کر کے بھیجنا اللہ تعالیٰٰ کے قادر ہونے کی علامت ہے۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ جو دولتمند ہوتا ہے وہ مستعمل جامہ کو اُلٹوا کر نہیں سلوایا کرتا بلکہ اُسے اتار کر ضرورت پر اورنیا کپڑا سلواتا ہے۔غریب اور نادار لوگ ایک ہی چیز کو کئی کئی شکلوں میں بدل بدل کر پہنتے ہیںاور اپنی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں۔کب اللہ تعالیٰٰ کا ہاتھ ایسا تنگ ہوا تھا کہ جب اس کے بندوں کو ہدایت اور رہنمائی کی حاجت ہوئی تو اسے کسی وفات یا فتہ نبی کو زندہ کر کے بھیجنا پڑا، وہ ہمیشہ بندوں کی ہدایت کے لئے انہیں کے زمانے کے لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر کے ان کی اصلاح کے لئے بھیجتا رہا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک ایک دفعہ بھی اس نے ایسا نہیں کیا کہ کسی پچھلے نبی کو زندہ کر کے دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا ہو، اس امر پر تب وہ مجبور ہو جب کسی زمانے کے لوگوں کے دلوں کی صفائی اُ سکی قدرت سے باہر ہو جائے اور اس کی حکومت انسانوں پر سے اُٹھ جائے، لیکن چونکہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اس لئے یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک وفات یافتہ نبی کو جنت سے نکال کر دنیا کی اصلاح کے لئے بھیج دے۔وہ قادر مطلق ہے۔جب اس نے مسیح علیہ السلام کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان پید اکردیا تو اس کی طاقت سے یہ بعید نہیں کہ ایک اور شخص مسیح علیہ السلام جیسا بلکہ اُن سے افضل پیدا کر دے۔غرض مسیح ناصری نبی کے دوبارہ دُنیا میں آنے کا انکار ہم اس وجہ سے نہیں کرتے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر نہیں سمجھتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر سمجھتے ہیں کہ وہ جب چاہے اپنے بندوں میں سے کسی کو ہدایت کے منصب پر کھڑا کر دے اور اس کے ذریعے سے