انوارالعلوم (جلد 7) — Page 347
۳۴۷ دعوة الا میر یہ معلوم ہوا کہ گویا یہ دونوں آیتیں آج ہی نازل ہوئی ہیں اور میرے گھٹنوں میں میرے سر کو اٹھانے کی طاقت نہ رہی- میرے قدم لڑکھڑا گئے اور میں بے اختیار شدت صدمہ سے زمین پر گر پڑا- اس روایت سے تین امور ثابت ہوتے ہیں- اول یہ کہ رسول کریم ﷺکی وفات پر سب سے پہلے صحابہؓ کا اجماع اسی امر پر ہوا تھا کہ آپﷺ سے پہلے سب انبیاء فوت ہو چکے ہیں` کیونکہ اگر صحابہؓ میں سے کسی کو بھی شک ہوتا کہ بعض نبی فوت نہیں ہوئے تو کیا ان میں سے بعض اسی وقت کھڑے نہ ہو جاتے کہ آپ آیات سے جو استدلال کر رہے ہیں یہ درست نہیں` کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو چھ سو سال سے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں- پس یہ غلط ہے کہ آنحضرتﷺسے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور جب کہ ان میں سے بعض زندہ ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آنحضرتﷺزندہ نہ رہ سکیں- دوم یہ کہ تمام انبیائے سابقین کی وفات پر ان کا یقین کسی ذاتی خیال کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس امر کو وہ قرآن کریم کی آیات سے مستنبط سمجھتے تھے` کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو کوئی صحابی تو اٹھ کر کہتا کہ گو یہ صحیح ہے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں مگر اس آیت سے جو آپ نے پڑھی ہے یہ استدلال نہیں ہوتا کہ آپﷺ سے پہلے تمام فوت ہو چکے ہیں- پس صدیق اکبرؓ کا آیت فقد خلت من قبلہ الرسل سے جمیع انبیائے سابقین کی وفات کا ثبوت نکالنا اور کل صحابہؓ کا نہ صرف اس پر خاموش رہنا بلکہ اس استدلال سے لذت اٹھانا اور گلیوں اور بازاروں میں اس کو پڑھتے پھرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ سب اس استدلال سے متفق تھے- تیسرا امر اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خواہ کسی اور نبی کی وفات کا ان کو یقین تھا یا نہیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انہیں یقینا کوئی علم نہ تھا` کیونکہ جیسا کہ تمام صحیح احادیث اور معتبر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ سخت جوش کی حالت میں تھے اور باقی صحابہؓ سے کہہ رہے تھے کہ جو کہے گا کہ رسول کریم ﷺفوت ہو گئے ہیں میں اس کا سر اڑا دوں گا اس وقت اپنے خیال کے ثبوت میں حضرت موسیٰ ؑ کے چالیس دن پہاڑ پر چلے جانے کا واقعہ تو وہ پیش کرتے تھے مگر حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر چلے جانے کا واقعہ انہوں نے ایک دفعہ بھی پیش نہ کیا- اگر صحابہ ؓ کا عقیدہ یہ ہوتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ جا بیٹھے ہیں تو کیا حضرت عمر ؓ یا ان کے ہم خیال صحابی ؓ اس واقعہ کو اپنے خیال کی تائید میں پیش نہ کرتے؟ ان