انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 346

۳۴۶ دعوة الا میر ان صحابی سے پوچھا کہ کیا رسول کریم ﷺفوت ہو گئے ہیں` انہوں نے کہا حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جو شخص کہے گا کہ رسول کریم ﷺفوت ہو گئے ہیں میں اس کی گردن تلوار سے اڑا دوں گا` اس پر آپؓ آنحضرتﷺکے گھر تشریف لے گئے` آپﷺ کے جسم مبارک پر جو چادر پڑی تھی اسے ہٹاکر دیکھا اور معلوم کیا کہ آپﷺ فی الواقع فوت ہو چکے ہیں` اپنے محبوبﷺ کی جدائی کے صدمے سے ان کے آنسو جاری ہو گئے اور نیچے جھک کر آپﷺ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا کہ بخدا اللہ تعالیٰٰ تجھ پر دو ۲ موتیں جمع نہیں کرے گا- تیری موت سے دنیا کو وہ نقصان پہنچا ہے جو کسی نبی کی موت سے نہیں پہنچا تھا` تیری ذات صفت سے جانا ہے اور تیری شان وہ ہے کہ کوئی ماتم تیری جدائی کے صدمے کو کم نہیں کر سکتا` اگر تیری موت کو روکنا ہماری طاقت میں ہوتا تو ہم سب اپنی جانیں دے کر تیری موت کو روک دیتے- یہ کہہ کر کپڑا پھر آپﷺ کے اوپر ڈال دیا اور اس جگہ کی طرف لے آئے جہاں حضرت عمرؓ صحابہؓ کا حلقہ بنائے بیٹھے تھے اور ان سے کہہ رہے تھے کہ آنحضرتﷺفوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہیں وہاں آکر آپؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا آپ ذرا چپ ہو جائیں مگر انہوں نے آپکی بات نہ مانی اور اپنی بات کرتے رہے- اس پر حضرت ابوبکرؓ نے ایک طرف ہو کر لوگوں سے کہنا شروع کیا رسول کریم ﷺ در حقیقت فوت ہو چکے ہیں` صحابہ کرامؓحضرت عمرؓ کو چھوڑ کر آپ کے گرد جمع ہو گئے اور پھر بالآخر حضرت عمرؓکو بھی آپؓکی بات سننی پڑی` آپؓ نے فرمایا:: وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُ انک میت وانھم میتون - يايها الناس من كان يعبد محمدا فان محمدا قد مات و من كان یعبد الله ان الله حی لا یموت یعنی محمدﷺ بھی ایک رسول ہیں- آپؐ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں` پھر اگر آپﷺ فوت ہو جائیں یا قتل ہو جائیں تو کیا تم لوگ اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاوگے- تحقیق تو بھی فوت ہو جائے گا اور یہ لوگ بھی فوت ہو جائیں گے- اے لوگو! جو کوئی محمد ﷺکی پرستش کرتا تھا وہ سن لے کہ محمدﷺفوت ہو گئے اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا اسے یاد رہے کہ اللہ زندہ ہے اور وہ فوت نہیں ہوتا- جب آپؓ نے مذکورہ بالا دونوں آیات پڑہیں اور لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺفوت ہو چکے ہیں تو صحابہؓ پر حقیقت آشکار ہوئی اور وہ بے اختیار رونے لگے اور حضرت عمرؓ خود بیان فرماتے ہیں کہ جب آیات قرآنیہ سے حضرت ابوبکرؓنے آپﷺ کی ثابت کی تو مجھے