انوارالعلوم (جلد 7) — Page 333
۳۳۳ دعوة الا میر اور روٹی سے اس کا پیٹ بھرنے سے اللہ تعالیٰ سورج اور روٹی کا محتاج نہیں ہو جاتا اسی طرح ملائکہ کے ذریعہ سے اپنے بعض ارادوں کے اظہار سے وہ ملائکہ کا محتاچ نہیں ہو جاتا - ۵ - ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور اپنی مرضی ان پر ظاہر کرتا ہے یہ کلام خاص الفاظ میں نازل ہوتا ہے اور اس کے نزول میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہوتا نہ اس کا مطلب بندے کا سوچا ہوا ہوتا ہے نہ اس کے الفاظ بندے کے تجویز کئے ہوتے ہیں` معنی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اور الفاظ بھی اسی کی طرف سے - وہی کلام انسان کی حقیقی غذا ہے اور اسی سے انسان زندہ رہتا ہے اور اسی کی ذریعہ سے اسے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہوتا ہے - وہ کلام اپنی قوت اور شوکت میں بے مثل ہوتا ہے اور اس کی مثال کوئی بندہ نہیں لا سکتا وہ علوم کے بے شمار خزانے اپنے ساتھ لاتا ہے اور ایک کان کی طرح ہوتا ہے جسے جس قدر کھودو اسی قدر اس میں سے قیمتی جواہرات نکلتے چلے آتے ہیں بلکہ کانوں سے بھی بڑھ کر - کیونکہ ان کے خزینے ختم ہو جا تے ہیں مگر اس کلام کے معارف ختم نہیں ہوتے - یہ کلام ایک سمندر کی طرح ہوتا ہے جس کی سطح پر عنبر تیرتا پھرتا ہے اور جس کی تہ پر موتی بچھے ہوئے ہوتے ہیں - جو اس کے ظاہر پر نظر کرتا ہے اس کی خوشبو کی مہک سے اپنے دماغ کو معطر پاتا ہے اور جو اس کے اندر غوطہ لگاتا ہے دولت علم و عرفان سے مالا مال ہو جاتا ہے - یہ کلام کئی قسم کا ہوتا ہے کبھی احکام و شرائع پر مشتمل ہوتا ہے کبھی مواعظ و نصائح پر` کبھی اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتا ہے - اور کبھی اپنی ناپسندیدگی کا علم دیتا ہے ، اور کبھی پیار اور محبت کی باتوں سے اس کے دل کو خوش کرتا ہے ،کبھی زجر و توبیخ سے اسے اس کے فرض کی طرف متوجہ کرتا ہے کبھی اخلاق فاضلہ کے باریک راز کھولتا ہے - کبھی مخفی بدیوں کا علم دیتا ہے - غرض ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور وہ کلام مختلف حالات اور مختلف انسانوں کے مطابق مختلف مدارج کا ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں نازل ہوتا ہے اور تمام کلاموں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کئے ہیں قرآن کریم اعلیٰ و افضل اور اکمل ہے اور اس میں جو شریعت نازل ہوئی ہے اور جو ہدایت دی گئی ہے وہ ہمیشہ کے لیے ہے کوئی