انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 334

۳۳۴ دعوة الا میر آیندہ کلام اسے منسوخ نہیں کرے گا- ۶- اسی طرح ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب کبھی بھی دنیا تاریکی سے بھر گئی ہے اور اور لوگ فسق و فجور میں مبتلا ہو گئے ہیں اور بلا آسمانی مدد کے شیطان کے پنجے سے رہائی پانا ان کے لیے مشکل ہو گیا ہے اللہ تعالیٰٰ اپنی شفقت کاملہ اور رحم بے اندازہ کے سبب اپنے نیک اور پاک اور مخلص بندوں میں سے بعض کو منتخب کر کے دنیا کی راہنمائی کے لیے بھیجتا ہے - جیسا کہ وہ فرماتا ہے و ان من امة الأخلا فيهانذیر یعنی کوئی قوم نہیں ہے جس میں ہماری طرف سے نبی نہ آچکا ہو اور یہ بندے اپنے پاکیزہ عمل اور بے عیب رویہ سے لوگوں کے لیے خضر راہ بنتے ہیں اور ان کے ذریعے سے وہ اپنی مرضی سے دنیا کو آگاہ کرتا رہتا ہے جن لوگوں نے ان سے منہ موڑا وہ ہلاکت کو سونپے گئے اور جنہوں نے ان سے پیار کیا وہ خدا کے پیارے ہو گئے اور برکتوں کے دروازے ان کے لیے کھولے گئے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوئیں اور اپنے سے بعد آنے والوں کے لیے وہ سردار مقرر کئے گئے اور دونوں جہانوں کی بہتری ان کے لیے مقدر کی گئی - اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ خدا کے فرستادے جو دنیا کو دنیا کو ظلمت کی بدی سے نکال کر نیکی کی روشنی کی طرف لاتے رہے ہیں` مختلف مدارج اور مختلف مقامات پر فائز تھے اور ان سب کے سردار حضرت محمد مصطفٰے ﷺتھے جن کو اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم قرار دیا کافة للناس مبعوث فرمایا اور جن پر اس نے تمام علوم کاملہ ظاہر کئے اور جن کی اس نے اس رعب و شوکت سے مدد کی کہ بڑے بڑے جابر بادشاہ ان کے نام سنکر تھرا اٹھتے تھے اور جن کے لیے اس نے تمام زمین کو مسجد بنا دیا` حتیٰ کہ چپہ چپہ زمین پر ان کی امت نے خدائے واحدہ لا شریک کے لیے سجدہ کیا اور زمین عدل و انصاف سے بھر گئی بعد اس کے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی - اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر پہلے انبیاء بھی اس نبی کامل کے وقت میں ہوتے تو انہیں اس کی وساطت کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمة ثم جائکم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ ) ( اور جیسا کہ پیغمبر ﷺنے فرمایا ہے کہ لو کان موسی و عیسی حیین لما وسعھما الا اتباعی - اگر موسی اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا -