انوارالعلوم (جلد 7) — Page 246
۲۴۶ قربانی کے بغیرکبھی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی اس لئے کبھی کسی خطرے اور کسی بیوی سے ہوی قربانی سے نہ ڈرو۔آپ کبھی فسادنہ کھڑا کر وہاں اگر ایسے سامان ہو جائیں کہ جان کا خطرہ ہو تو جان کی پروابھی نہ کرو۔ایسی حالت میں اپنی جگہ سے نہ ہٹنے پر خدا تمہاری حفاظت کرے گا۔بعض حالات میں غلطی سے لوگوں سے ایسافعل سرزد ہوا ہے جس کا خواہ وہ کچھ نام رکھیں مگر وہ بزدلی نظر آتا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔یاد رکھو بہادری کا نتیجہ ہمیشہ اچھا نکلتا ہے اور بزدل کوئی کام نہیں کر سکتا۔کسی جماعت اور کسی قوم نے ترقی نہیں کی جب تک اس نے بزدلی کو چھوڑ کر بہادری سے کام نہیں لیا۔انگریزوں کو دیکھو جنگلوں اور پہاڑوں میں بیس بیس سال گذار دیتے ہیں۔ایک امریکن نے بیس سال جنگل میں اس لئے گذار دیئے کہ وہ بندروں کی زبان دریافت کرے اور یہ معلوم کرے کہ آیا ان کے محض اشارے ہوتے ہیں یا ان اشاروں کے کچھ معنے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ بیس سال بندروں میں رہنے سے اس نے دریافت کیا کہ بندروں کی بھی زبان ہے۔جب ایک شخص بیس سال اسی غرض کے لئے جنگلوں اور بندروں میں گزار دیتا ہے کہ ان کی زبان دریافت کرے تو کیا ہم خدا کے دین کی حفاظت اور تبلیغ کے لئے تین ماہ جنگلوں میں بسر نہیں کرسکتے۔وہ لوگ خواہ کچھ بھی ہوں مگر بندروں سے زیادہ تو غیرجنس نہیں۔تیسری نصیحت یہ ہے کہ تم اپنے افسروں کی کامل اور مکمل فرمانبرداری اختیار کرو خواہ تم اپنے آپ کو افسرسے اعلی ٰسمجھو لیکن اس کی اطاعت اسی طرح کرنی ہوگی جس طرح ایک بادشاہ کی ایک چوڑھا اورچمار کر تا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کرو کیونکہ اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔اس کی پروا نہ کرو کہ افسر ادنی ٰہے اور تم اعلیٰ ہو یا جو کام تمہیں دیا گیا ہے وہ ادنی ٰ ہے کیونکہ جو کام خدا کے لئے کرتا ہے اس کی شان نہیں کم ہوتی بلکہ خدا اس کو اٹھاتا ہے۔پس کسی کام کو ادنیٰ نہ سمجھو اور کبھی افسر کی اطاعت سے منہ نہ موڑو یہاں تک کہ اپنی مدت گذار کر واپس آجاؤ - وہاں رہو اطاعت کرو اور ہر ایک کام کرو جس کا تمہیں افسر حکم دے۔چوتھی نصیحت یہ ہے کہ لوگوں سے باتیں کرنے اور ملاقات کرنے کی عادت ڈالو یہ نہ ہو کہ ایک مقام پر مہینوں پڑے رہو اور وہاں کے لوگوں سے ملاقات بھی نہ کر سکو۔بعض دوست جو لائق تھے مخلص بھی تھے اور دین سے واقف بھی تھے محض کم گوئی کے باعث لوگوں