انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 214

۲۱۴ شرط کی تعمیل میں قربان کر دیا جائے گا۔غرض کام کو جس ڈھب پر چلایا جا رہا ہے وہ نہایت مضر ہے اور آنے والے خطرہ کو محسوس کر کے میں پھر ایک دفعہ سب اسلام کا درد رکھنے والوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں ان مخمصوں میں نہ پڑو وقت کو ضائع ہونے سے بچاؤ، ورنہ پھر پچھتاؤ گے میں نے آپ لوگوں کو ہجرت کے متعلق مشورہ دیا آپ نے نہ مانا اور مجھے اپناد شمن خيال کیامگر بعد میں پچھتانا پڑا۔میں نے کالجوں وغیرہ کے بائیکاٹ سے منع کیا آپ نے اسے بے غیرتی خیال کیا آخر اس تحریک کو نقصان اٹھا کر چھوڑنا پڑا۔میں نے غیر ممالک میں وفدبھیجنے کی تجویزبتائی اس کو آپ نے نہ مانا آخر اس کا نقصان اٹھانا پڑا۔میں نے حکومت ترکیہ کی حفاظت کی تحریک کا لیڈر مسٹر گاندھی کو بنانے سے منع کیا اور سمجھایا کہ اس میں اسلام کی ہتک ہے اور یہ کہ اس کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندو آپ کو کھا جائیں گے آپ نے اس کو نہ مانا اب آپ اس کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔ہر موقع پر آپ نے مجھے اور احمد یہ جماعت کو اپنا دشمن خیال کیا اور اپنی ترقی پر حاسد سمجھا۔مگر اے عزیز و اوراے قوم کے رئیسو! میں آپ لوگوں کا دشمن نہیں ہوں۔خدا کی قسم آپ کاور و میرے دل میں ہے اور آپ کی محبت میرے سینہ میں۔آپ لوگوں کی ہمدردی سے میں بے تاب ہوں ورنہ ایسے پر خطر اوقات میں سب دنیا کو اپنادشمن بنا لینے کی مجھے کیا ضرورت تھی۔میں آپ کی بھلائی چاہتا ہوں اور اس کے حصول کے لئے ہر ایک قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں پھر اخلاص اور محبت سے کتابوں کے متفقہ طور پر اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ - اس وقت یہ سوال جانے دیں گے جو راجپوت لوگ بچ جائیں یا جو ہندو مسلمان ہوں وہ آپ کو کیا کہیں گے۔اس وقت ایک سوال مد نظر رکھیں کہ وہ خدا اور اس کے رسول کو کیا کہیں گے۔یہی وقت آزمائش ہے اس وقت ذاتی عداوتوں کو اس محبوب کے لئے قربان کر دو جو آپ کا تو باپ ہی تھا کافروں کی نسبت بھی اس کے دل میں یہ درد تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لعلک باخع نفسک الا يكونومؤمنین ۲۸ اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ مختلف فرقوں کے رؤساء نہ معلوم کہ اسی اہمیت کو سمجھیں اور کب اس کے لئے کوئی عملی صورت پیدا کریں میں اپنی طرف سے پیش قدمی کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ ہم اس کام کے لئے ہر اس شخص سے مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور قرآن کریم کو مانتا ہے۔ہما را با قاعدہ کام شروع ہے اور ایک تفصیلی نظام کے ماتحت اس کو پھیلایا گیا ہے۔اگر کوئی شخص ان شرائط کے ماتحت جو اوپر بتائی گئی ہیں،