انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 180

۱۸۰ اس وقت آریوں کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے پڑ جاویں گے دوسرے موقع پر تو ہم ان کی مخالفت کوپر پشہ کے برابر بھی وُقعت نہیں دیتے مگر اس موقع پر یہ امران کا اس قوم کے لئے تباہی کا موجب اور دشمنوں کے لئے ثات کا باعث ہو گا۔اس روک کا ذکر کردینے کے بعد جو ہمارے راستہ میں حائل ہے میں سمجھدار طبقہ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ فی الواقع اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہیں تو پھر انکو چاہئے کہ اس امر کا علاج کر لیں۔اور یا پھر اگر مولوی صاحبان کی طرف سے کوئی فتنہ اٹھے تو سمجھ لیں کہ اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے ہم تو انشاء الله تعالی ٰباوجود ان کی مخالفت کے بہت کامیابی حاصل کریں گے لیکن کام کو سخت نقصان ضرور پہنچے گا۔اسلام سے محبت رکھنے والوں سے خطاب اس کے بعد میں اس کام کی اہمیت کی طرف تمام ان لوگوں کو توجہ دلانی جانتا ہوں جو اسلام سے محبت رکھتے ہیں۔ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قوم جس پر اس وقت آریوں کے دانت ہیں گو ساڑھے چار لاکھ کے قریب ہے لیکن اس قوم کے پیچھے ایسی ہی حالت کے ایک کروڑ آدمی اور ہیں جو جلد یا بدیران مرتدین کی اقتداء کریں گے۔پس یہ مت خیال کرو کہ ساڑھے چار لاکھ آدمی اسلام سے مرتد ہونے لگا ہے بلکہ جیسا کہ ہماری تحقیق سے معلوم ہوتا ہے یہ سلسلہ بہت وسیع ہے اور ایک کروڑ آدمی پر اس حملے کی زدپڑتی ہے۔اس کی تفصیلات میں اس وقت پڑ ناخود اس کام کے لئے مضر ہے مگر خطرہ نہایت سخت ہے اور اگر آج کچھ نہ کیا گیا تو کل اس کا علاج بالکل ناممکن ہوجائے گا۔مسلمان ہی نہ خیال کریں کہ نہایت آسانی سے وہ ان قوموں کو ارتداد سے روک لیں گے۔سولہ سال سے ان قوموں میں بعض نہایت ناواجب اور مخفی ذرائع سے کام کیا جارہا تھا اور اب ان قوموں کے دماغ میں ہندو خیالات موجزن ہو رہے ہیں۔جس طرح ایک پیدائشی مسلم کی نسبت ایک نو مسلم میں جوش زیادہ ہوتا ہے اسی طرح اس قوم میں سخت جوش ہے۔جب تکؤ ایک لمبی اور باقاعدہ جنگ نہ کی جائے گی (سعی اور تبلیغ کی نہ کہ تلوار کی) اس وقت تک ان علاقوں میں کامیابی کی امید رکھنا فضول ہے۔اس کام پر روپیہ بھی کثرت سے خرچ ہو گا اور جن لالچوں سے ان لوگوں کو قابو کیا جا رہا ہے ان کا مقابلہ بھی ضروری ہوگا۔روپیہ کے ساتھ روپیہ کے دیانتدارانہ طور پر خرچ ہونے کا بھی سوال ہے۔اس کا بھی نہایت مناسب انتظام کرنا ضروری