انوارالعلوم (جلد 7) — Page 181
۱۸۱ ہو گا ورنہ ان کوار تدادسے روکتے روکتے اور ہزاروں کو اسلام سے بد ظن کر دیا جائے گا۔ہندو اپنی پرانی کوششوں کے با وجو دوس لاکھ روپیہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مسلمانوں کو نیا کام شروع کرنا ہے ان کے لئے بیس لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے جس کا ایک ایک پیسہ اس تحریک اور اس کے متعلقہ کاموں پر خرچ ہونا چاہیے نہ یہ کہ جمع کرنے والوں کی جیبوں میں چلا جائے۔ہم پچاس ہزار روپیہ اس کام کے لئے جمع کریں گے میں اس کام میں اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ماتحت ہر طرح کی مدد دینے کے لئے تیار ہوں۔ہماری جماعت قلیل اور پھر کمزور ہے۔ہندوستان میں آٹھ کروڑ آدمی مسلمان کہلاتے ہیں۔ہماری پانچ لاکھ کی جماعت سب کی سب ہندوستان میں ہی فرض کرلی جائے تب بھی ہماری جماعت کے حصہ میں بیس لاکھ روپیہ کا ایک سو ساٹھواں حصہ آتا ہے یعنی تیراں ہزار روپیہ کے قریب۔جب اس امر کو دیکھا جائے کہ کروڑ پتی تو الگ رہے ہماری جماعت میں ایک آدمی بھی لاکھ پتی نہیں ہے اور نہ کوئی والئی ریاست ہے تو ہمارا حصہ تقسیم مال کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف دو تین ہزار روپیہ بنتا ہے۔پھر ہماری جماعت کی عورتیں اس وقت جرمنی میں مسجد بنانے اور وہاں تبلیغ اسلام کا کام جاری کرنے کے لئے پچاس ہزار روپیہ کی فکر میں ہیں اور میں ہزار روپیہ اس کام کے لئے دے چکی ہیں پس اس وقت وہ چندہ میں حصہ نہ لے سکیں گی اور گویا ہماری نصف جماعت صرف حصہ لے سکے گی۔مگر پھر بھی اس موقع کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی غریب جماعت کی طرف سے جو پہلے ہی چندوں کے بار کے نیچے دبی ہوئی ہے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر دوسرے لوگ بقیہ رقم مہیا کر لیں تو ہم پچاس ہزار روپیہ یعنی کل رقم کا چالیسواں حصہ انشاء اللہ اس کام کے لئے جمع کردیں گے۔میں سردست یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ روپیہ کسی طرح خرچ کیا جائے گا کیونکہ یہ امرکل دلچسپی رکھنے والی جماعتوں کے مشورہ کے بعد اور روپیہ کی حفاظت کے کامل اطمینان کے بعد طے پاسکتا ہے۔مگر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ فتنہ ارتداد کو روکنے کے لئے اور اسلام کی حفاظت و اشاعت کے لئے اس قدر رقم ہم لوگ انشاء اللہ جمع کریں گے۔ہم کس قدر مبلغ دیں گے علاوہ ازیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق کے ماتحت ہماری جماعت تیس آدمی تبلیغ کا کام کرنے کے لئے دے گی جن کے اخراجات وہ موعو در قم میں سے خود برداشت کرے گی اور اگر اس رقم سے زیادہ خرچ ہو گا تو بھی وہ خود اپنے مبلغوں کا کل خرچ ادا کرے گی۔اور میں یہ بھی وعدہ کرتا