انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 137

۱۳۷ مظلوم سمجھا جائے۔غرض یہ بڑا علم ہے اور اس کی مختلف شاخیں ہوتی ہیں جن میں سے بڑی یہ ہیں کہ کس طرح پر اخبار مفید او روچپ ہو سکے اور ایک کی راۓ کاوہ آئینہ ہو جائے اور وہ اپنا اثر ڈال سکے۔پھر اخبارات کی حد بندی ہوتی ہے مثلاً بعض مذہبی اخبار ہوتے ہیں بعض تجارتی بعض کی خاص جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور سیاسی اغراض میں بھی ان کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔علم الجو و اللّطائف (۶) چھٹا علم جواسی زبان کے نیچے آتا ہے علم الجو واللطائف ہے اس علم میں اس بات سے بحث کی جاتی ہے کہ کسی طرح پر ہجو کمال کو پہنچ جائے اور اس میں زبان اور تحریر کی خوبی بھی اعلیٰ درجے کی ہے۔اسی طرح ایسالطیفہ ہو کہ سب بے اختیار ہنس پڑیں۔اس فن میں جو لوگ کمال حاصل کرتے ہیں بعض وقت وہ ایسی ہجو کرتے ہیں کہ فوراً اثر ہوتا ہے۔اسی طرح لطائف کا علم ہوتا ہے۔ایک شخص بیان کرتا ہے سننے والے بے اختیار ہو جاتے ہیں وہ ہنسی کو ضبط نہیں کرسکتے۔غرض یہ ایک مستقل علم ہے۔واعظ خاص طور پر اس سے کام لیتے ہیں۔قصہ نویسی (۷) ساتواں علم ،قصہ نویسی کا علم ہے۔اس کی دو شاخیں ہوتی ہیں۔ایک مختصر قصہ یا کہانی لکھنی۔دو سر المباناول لکھنا۔پھر ان میں جُد اجُد ابحث ہے۔قصوں اور ناولوں کے مختلف اقسام ہیں۔قصہ نویسی کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے پڑھنے والوں پرایک خاص قسم کا اثر ڈالا جائے بعض ناول ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں صرف ایسے واقعات کاذ کر ہوتا ہے جو محبت سے تعلق رکھتے ہیں۔یا سراغ رسانی کے متعلق ہوتے ہیں۔پھر بعض ایسے ہوتے ہیں جن کا انجام غم پر ہوتا ہے اور بعض کا خوشی پر پھر جو باتیں چھوٹے قصوں میں ضروری ہوتی ہیں بڑوں میں وہ نہیں ہوتیں۔بعض بڑا ناول لکھتے ہیں اور بعض کہانی اور فسانہ لکھتے ہیں۔علم تقریر (۸) آٹھواں علم بھی علم زبان کے متعلق ہے اور یہ بھی ایک مستقل علم ہے۔اس کو علمِ خطابت کہتے ہیں یعنی تقریر کرنے کا علم۔لیکچر دینے کا فن۔اس علم میں اس بات سے بحث ہوگی کہ مقرریعنی تقریر کرنے والا ایسی تقریر کر سکے کہ سننے والوں کی توجہ لیکچرارہی کی طرف ہو اور اس کے کلام اور بیان میں ایسا اثر اور قوت ہو کہ اگر سننے والے اس کے خلاف بھی ہوں تو بھی مؤید ہو سکیں۔اس علم میں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح پر مقرّر کو اپنے