انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 138

۱۳۸ مضمون کی تقسیم اور ترتیب کرنی چاہئے اور کس طرح پر اپنے کلام میں قوت اور اثر پیدا کرنا ہوگا۔مضمون نویسی (9) نواں علم مضمون نویسی کہنا چاہئے جس کو انگریزی میں ایسے رائٹنگ (Essy Writing) اور ہماری زبان میں مضمون کہتے ہیں۔یہ مضمون نویسی، اخبار نویسی کے علاوہ ایک علم ہے اس میں بعض کیفیتوں اور جذبات کا ذکر ہوتا ہے۔مثلاً محبت پر جب مضمون لکھا جائے گا تو اس کی کیفیت اور حقیقت بیان کرنی ہوگی۔اس میں ان امور پر بحث ہوگی جو محبت کے اثر کو قوی بناتے ہیں اور پھر اس کے نتائج کو بیان کرنا ہو گا اسی طرح اگر نفرت پر لکھنا ہے تو اس کی ساری کیفیت کا ایک نقشہ کھینچ کر سامنے رکھ دیا جائے۔صرف و نحو (۱۰)دسواں علم، جو زبان کے متعلق ہے وہ صرف و نحو کا علم ہے۔صرف کے معنے ہیں الفاظ کے ہیر پھیراور صیغوں کا علم بتانا بحیثیت الگ الگ لفظ کے مثلا ًکھانا ایک لفظ ہے۔اس سے کھایا۔کھاتا کھائے گا وغیرہ مختلف الفاظ جو بنتے ہیں ان کی بابت یہ علم دینا کہ وہ کس طرح بنتے ہیں اور ان کے ان تغیرّات کا کیا اثر ہوتا ہے مضمون میں کیا تغیّر ہوتا ہے اور صورت میں گیا تغیرّ آتا ہے۔ان میں سے ہر ایک سے کیا مراد ہوگی- کیا وہ واحد ہے جمع ہے؟ مؤنث کے لئے کیا آتا ہے؟ مذکر کے لئے کیا بولتے ہیں؟ نحو کا علم یہ بتاتا ہے کہ الفاظ مل کر کیا مفہوم بتاتے ہیں۔الفاظ کی ترتیب اور ترکیب کی طرح ہونی چاہئے۔پہلے کسی لفظ کو لانا ہو گا اور آخر میں کون سا؟ اور الفاظ کے اس طرح ترتیب دینے سے ان کے مفہوم اور مطلب میں کیا اثر پڑتا ہے ؟ جیسے میں نے روٹی کھائی۔کھائی روٹی میں نے وغیرہ۔نحوکے علم کے ذریعہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں درست جملہ کونسا ہو گا۔پھر ہر ایک زبان کی نحوی ترتیب الفاظ کو اپنے قاعدہ کے موافق بتاۓ گی۔جس ملک میں کوئی شخص پیدا ہوتا ہے اور اس کی مادری زبان یا ملکی زبان جو بھی ہو وہ اس میں درست بولے گا لیکن غیر زبان کو بغیرنحو کے علم کے وہ صحیح طور پر نہیں بول سکے گا اس کے لئے نحو کا جاننا ضروری ہوگا۔دیکھو ہمارے ملک میں ایک زمیندار جٹ عورت بھی کبھی یہ نہ کہے گی۔روٹی کھائی میں نے۔بلکہ وہ میں نے روٹی کھائی ہی کہے گی جو درست ہے لیکن جو اس ملک میں پیدا نہیں ہوئے ایک انگریز ،عرب یا ایرانی ضرور غلط بول دے گا جب تک وہ نحو سے واقف نہ ہوگا۔عربی زبان میں علم نحو یہ بھی بتاتا ہے کہ زیر ،زبر ،پیش کا کیا مطلب ہے عربی زبان میں نے کو