انوارالعلوم (جلد 7) — Page 129
۱۲۹ مختلف فرقوں میں جو اختلافات ہیں وہ کس قوم کے ہیں۔عقائد کے لحاظ سے مسلمانوں میں جو فرقے ہیں ان میں ایک دوسرے کے عقائد کے لحاظ سے کیا اختلاف ہے۔مثلا ًایک سُنی کہلاتے ہیں جن میں حنفی۔شافعی،مالکی،حنبلی سب داخل ہیں دوسرے شیعہ ہیں۔سُنیوں اور شیعوں کا بڑا اختلاف مسئلہ خلافت کے متعلق ہے۔مسئلہ خلافت کے متعلق پھر بحث ہوگی کہ خلافت ہے یا نہیں۔ہے تو کس حد تک ماننا ضروری ہے اور پھر خلافت انتخاب سے ہوگی یا اولادسے؟ دوسرا مسئلہ اختلاف کا یہ ہے کہ قرآن مجید کی وحی لفظوں میں ہے یا یہ خیالات اور اس کا مضمون وحی ہوا؟اسی ضمن میں خدا تعالیٰ کی صفات پر بحث ہے کہ کیاخد ا کلام کر سکتا ہے یا اس کا بولنا اور سننا اورہے؟ تیسرا اختلاف اس بات پر ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے مقابلہ میں رسول کا بھی کوئی حق ہوتاہے یا نہیں؟ یہ اصول ہیں جو خلفاء کے ماننے والے لوگوں میں اور جو خلفاء کے متعلق اختلاف کرتے ہیں قابل غور ہیں۔دوسرا فرقہ خارجیوں کا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ کے بعد کوئی خلافت نہیں وہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چاہئے تھی اور یہ بھی ان کا خیال ہے کہ گناہ کے بعد ضرور جہنم میں جانا ہو گا۔شفاعت نہ ہوگی ان کے فرقہ کی اصل بنیادیہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نعوذبالله غلطی کی جو خلیفہ مقرر کیا۔خوارج حضرت علی کرم اللہ وجہ کے وقت میں ہوئے ہیں۔تیرا فرقہ معتزلی ہے۔عمربن عمیر نے بنایا ان کا خیال ہے کہ عقل خدا نے دی ہے اس سے کام لیا جائے یہ لوگ صفات ،تقدیر اور کلام کے منکر ہیں۔چوتھا فرقہ شیعہ کا ہے۔ان کا عقیدہ یہ تھا کہ امت میں ایک شخص ہو جو امام ہو اور یہ آپؐ کی اولاد کا حق تھا۔آنحضرت اﷺکے بعد حضرت علیؓ اور پھر حضرت علی ؓکی اولاد کا حق ہے۔یہ فرقہ خصوصیت سے خلفاء کادشمن ہے اور نعوذ باللہ ان کو ٹھگ قرار دیتا ہے۔پانچواں فرق نیچری ہے۔ان کا طریقہ ہے کہ یورپ کے علوم کے ماتحت اسلام کو کرنا چاہتے ہیں۔یہ بڑی غلطی ہے کہ بندے کے علم کے موافت خدا کا کلام - نیچریوں کا بظاہر عقید ہ تو یہ ہے کہ خدا کا کلام خدا کے فعل سے الگ نہ ہو مگر جب تطبیق کرنے لگتے ہیں تو خدا کے کلام کی بجائے انسان کے کلام سے کرتے ہیں۔یہ فرقہ معتزلہ سے ملتا ہے۔