انوارالعلوم (جلد 7) — Page 84
۸۴ نجات پانچویں علامت یہ ہے کہ دیکھے کہ اس کے دل میں لوگوں کی ہمدردی بڑھتی جارہی ہے یا نہیں؟ اگر یہ ترقی کر رہی ہے توسمجھے کہ نجات کی طرف جا رہا ہے۔وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ ماں باپ سے جدا ہو تو چھوٹے بچے بھی اس کو مارنے لگ جاتے ہیں اور ماں باپ کے سامنے بڑے بھی نہیں مار سکتے۔نجات کے معنی خدا تعالیٰ کے پاس جانے کے ہیں اور جوں جوں کوئی نجات کے قریب ہو گا خدا کے قریب ہو جائے گا اور خدا کے دوسرے بندوں کو تکلیف دینے کی بجائے ان سے محبت کا خیال اس کے دل میں بڑھتا جائے گا۔چھٹی علامت یہ ہے کہ خدا کے کام کو اپناکام سمجھے۔یعنی دین کے کام کو اپنا فرض سمجھے۔دین کا نقصان ہوتا دیکھ کر اس کو اتناہی صدمہ ہو جتنا اپنا نقصان ہونے پر ہو۔جیسے یہاں ہی پچھلے ونوں نقصان ہوا۔ایک شخص روپیہ لا رہا تھا جو قومی روپیہ تھا مگر اس سے گم ہو گیا۔اس پر اگر کوئی ہنسی کرتا ہے تو اس کی حالت خراب ہے۔پس دینی نقصان کو اپنا نقصان سمجھنابھی ایک علامت ہے۔- ساتویں علامت یہ ہے کہ اس کے لئے معرفت کی کھڑکی کھولی جاتی ہے اور وہ اپنے دل میں خوشبوئے اتصال پاتا ہے یہ اندرونی احساس ہے۔آٹھویں علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰٰ کا ذکر سن کر اس کا دل ڈر جاتا ہے خواہ کتنے ہی جوش اور غصہ میں ہو خدا تعالیٰ کا جب نام آجائے تو ٹھہر جاتا ہے اور سوچ لیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے نام کی عظمت کے خلاف تو کام نہیں کرتا؟ اگر کوئی دیکھے کہ خواہ کتنے ہی جوش میں ہوں خد اکانام آنے پر رک جاتا ہوں اور بلا غور کئے کے آگے نہیں بڑھتاتو سمجھ لے کہ یہ ایمان کی علامت ہے اور یہ کہ وہ نجات کی طرف جارہاہے۔نویں علامت یہ ہے کہ اپنی بدیوں پر اطلاع ملنے لگ جائے۔جب انسان خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے تو چھوٹی چھوٹی بدیاں بھی نظر آنے لگ جاتی ہیں اور ساتھ ہی ان کی دلیل بھی معلوم ہو جاتی ہے۔دسوی علامت یہ ہے کہ ایسے انسان کے لئے نیکیوں کی باریک درباریک راہیں کھولی جاتی ہیں۔کئی نیکیاں جو اس کے خیال میں بھی نہیں ہوتی وہ اسے معلوم ہو جاتی ہیں۔گیارھویں علامت یہ ہے کہ ایسا انسان ہر حالت میں اللہ تعالیٰٰ کی قضاء پر خوش ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مشکل کے آنے پر تدبیریں نہیں کرتا۔تدبیریں کرتا ہے لیکن اگر وہ نہ