انوارالعلوم (جلد 6) — Page 530
دل محسوس کرتے ہیں کہ خدا کی برکتیں ان سے چھین لی گئی ہیں تو پھر اے شہزادہ ! آپ سمجھ لیں کہ خدا نے مسیحیت کو چھوڑ دیا ہے اور اسلام کے ساتھ اپنی رحمتیںمخصوص کردی ہیں۔آخر میں اے مکرم شہزادہ ! مَیں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ جس محبت سے خدا کی بادشاہت کی خبر ہم نے آپ کو دی ہے اسی محبت سے آپ اس تمام امر پر غور کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جیسے ہم ہیں ویسے ہی آپ ہیں۔اس کی نظروں میں چھوٹے اوربڑے بادشاہ اور رعایا سب برابر ہیں۔ابدی زندگی کے ہم ہی محتاج نہیں بلکہ آپ بھی اس کے محتاج ہیں اور خدا کی رضا کی ہم ہی کو ضرورت نہیں بلکہ آپ کو بھی ہے۔دُنیا کی بادشاہتیں فانی ہیں اور اس کی عزتیں آنی۔وہی دائمی خوشی کا وارث ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو خوش کرتا ہے ہم نے حق آپ کےسامنے پیش کردیا ہے اس کا قبول کرنا یا نہ کرنا آپ کے اختیار میں ہے۔مگر ہم آپ سے باادب التجا کرتے ہیں کہ آپ اسلام کے متعلق سنی سنائی باتوں پر نہ جائیں اور دشمن کےاقوال پر اپنے خیالات کی بناءنہ رکھیں۔اسلام ایک پاک اور بے عیب مذہب ہے اور اس کی تعلیم پر چلنے والے ہمیشہ اچھے سے اچھے پھل کھاتے اور خدتعالیٰ کی عنایتوں اور شفقتوں سے حصہ لیتے رہتے ہیں۔اس وقت دُنیا گناہ سے بھر گئی ہے اور نافرمانی اوربغاوت پھیل ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک رہا ہے۔اب وہ دُنیا کو اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے اور اس سے اپنا وجود منوانا چاہتا ہے دنیا نے شرک کے راستہ پر بڑھ بڑھ کر قدم مارا اور انکار پر اصرار کیا اور خدا کے کلام کی ہتک کی اور اس کی ملاقات کے خیال کو دل سے بُھلا دیا اور قیامت کو ہنسی ٹھٹھا سمجھا اور مادیت کا زنگ اس کے دل پر لگ گیا اور لوگوں نے خیال کیا کہ اس کے انبیاء محض طلیق اللسان انسان تھے جنہوں نے لوگوں کو حدود کے اندر رکھنے کے لئے مذہب کی روک بنادی تھی اور وہ خیال کرنے لگی ہے کہ وہ خدا کو بھی سبق پڑھا سکتی ہے اور اس کے کلام پر بھی حکومت کرسکتی ہے۔عیاشی بڑھ گئی ہے اور دنیا کی محبت دلوں میں گھر کر گئی ہے۔ایک عاجزانسان کو خدا تعالیٰ کا شرک قرار دیا جاتا ہے اور اس سزا کو جو مسلمانوں کو اسلام کی طرف سے منہ پھیر لینے کی وجہ سے مل رہی تھی اپنی سچائی کی سمجھا جا رہا ہے اور کروڑوں روپیہ اس لئے خرچ کیا جارہا ہے کہ تالوگ ایک خدا کی پرستش چھوڑ دیں۔خدا تعالیٰ نے ان باتوں پر ایک لمبے عرصہ تک صبر کیا اور جب لوگ اس کے پچھلے کلام سے فائدہ اُٹھانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو اس نے اپنا موعود رسول بھیجا تا کہ اس کی باتوں سے لوگ متأثر ہوں اور اس کے ہاتھ پر نشان پر نشان اور معجزہ پر معجزہ