انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 511

نشانات اسلام کی صداقت کا ایک ثبوت تھے اور آپکے معجزات قرآنِ کریم کی فضیلت کی ایک دلیل۔اے شہزادۂ مکرم ! آپ کے معجزات اور نشانات کا ایک مبسوط کتاب میں بھی بیان کرنا مشکل ہے کجا یہ کہ چند صفحات میں بیان ہوں وہ اپنی اقسام میں ایسے وسیع تھے کہ قسموں کو ہی انسان بیان کرنے لگے تو کئی صفحات اس کے لئے چاہئیں۔چہ جائیکہ تفصیل بیان ہوسکے۔ٍآپ کے معجزات اخلاقی بھی تھے یعنی ایسے معجزانہ اخلاقی کارنامے آپ سے صادر ہوتے تھے کہ ان کو غور سے دیکھنے والا ان میں ہی خدا کا ہاتھ دیکھتا تھا اور عقلمند کے لئے صرف وہی آپ کی راستبازی کے معلوم کرنے کے لئے کافی تھے آپ کی شجاعت ،آپ کی حُسن ظنی، آپ کی محبت ،آپ کا حُسنِ سلوک ،آپ کی ہمدردی ،آپ کا معاملہ ،آپ کی دوستی سب ایسی چیزیں تھیں کہ ہر ایک انسان ان میں اعلیٰ درجہ کی صفائی اور اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی دیکھتا تھا اور معلوم کرتا تھا کہ سوائے خدارسیدوں کے یہ بات اور کسی میں نہیں پائی جاسکتی۔پھر آپ کے معجزات کشفی قسم کے بھی تھے یعنی بہت دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ ایک خیال کسی کے دل میں آیا اور فوراً آپؑ نے اسی قسم کے خیالات کے متعلق گفتگو شروع کردی جس سے آپ کی صحبت میں بیٹھنے والا معلوم کرتا تھا کہ وہ ایک خدا کے بندے کی صحبت میں بیٹھا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ دوسروں کے خیالات پر آگاہ کرتا چلا جاتا ہے۔وہ اقتداری رنگ کے بھی تھے یعنی جب آپ کے منہ سے نکل جاتا کہ یہ کام یوں ہوجائے گا تو بالعموم دیکھا جاتا تھا کہ وہ اسی طرح ہوجاتا اور لوگ ایسے ایسے کاموں کو پورا ہوتے دیکھ کر جن کے پورا ہونے کے امید نہ ہوتی تھی اس امر کو محسوس کرتے تھے کہ یہ شخص ایک محبوب الٰہی ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کردیتا ہے یا یوں کہیں کہ خدا تعالیٰ اس کی عزت کو قائم کرنے کے لئے بعض دفعہ اپنی مرضی کو اس کی زبان پر جاری کردیتا ہے۔آپؑ کے معجزات علمی رنگ کے بھی تھے۔یعنی آپ کو بعض دفعہ ایسا علم دیا جاتا تھا جو انسانی طاقت سے بالا ہوتا تھا اور جس کو دیکھ کر آپ کے دشمن بھی حیران رہ جاتے تھے۔پھر آپ کے معجزات بیماروں کے اچھا کرنے کے متعلق بھی تھے یعنی آپ بیماروں کے لئے دعائیں کرتے اور وہ اچھے ہوجاتے۔پھر آپ کے معجزات اس رنگ میں بھی ظاہر ہوتے تھے کہ لوگوں کے خیالات میں آپ کےذریعے سے تبدیلی ہوجاتی بہت لوگ آپؑسے چاہتے تھے کہ ان کے دلوں میں سے بعض خیالات ہٹ جائیں