انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 503

ہوکر گالیاں دینے لگ جاتے جنہیں سُن کر آپ خاموش ہوجاتے اور جب ان کا جوش ٹھنڈا پڑجاتا اور وہ تھک جاتے تو پھر اپنی بات سنانے لگ جاتے اور وہ لوگ جو باتیں سنتے حیران ہوتے کہ لوگ کیا کہتے تھے اور اصل معاملہ کیا ہے۔جہاں جہاں آپؑ جاتے سینکڑوں اندھے آنکھیں پاتے اوربہرے سننے لگتے اور وہ جن کے جسم مبروص تھے پاک ہوتے اور بیمار شفاء پاتے اوربہت مُردے زندہ ہوتے اور ایسا ہوتا کہ وہ شفا یاب اور زندہ ہونے والے پھر اپنے اپنے گھروں کو نہ چلے جاتے بلکہ آپؑکے ساتھ ایسے وابستہ ہوجاتے کہ پھر آپ ؑسے جدا نہ ہوتے اور جہاں آپ کا پسینہ گرے وہاں وہ اپنا خون بہانے کے لئے تیار ہوجاتے۔کچھ دنوں کے بعد آپ لاہور گئے اور وہاں سے سیالکوٹ اور وہاں سے جالندھر اور وہاں سے لدھیانہ اور پھر واپس قادیان آگئے اور تمام سفروں میں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے۔یہ سفر حضرت مسیح موعودؑ کو اس لئے پیش آئے تاکہ پہلے مسیحؑ سے آپ ؑکو مشابہت حاصل ہو جائے جو اس لئے دُنیا میں بھیجا گیا تھا تاکہ بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرے اور ان کی تلاش میں جائے۔ورنہ آپ بالعموم قادیان ہی میں رہے اور یہیں سے لوگوں کو تبلیغ کرتے اور کتابوں اور اشتہاروں کے ذریعے باہر کے لوگوں کو پیغامِ حق پہنچاتے یا اپنے شاگردوں کو باہر بھیجتے تاکہ لوگوں کو خدا کے دین کی طرف بلائیں اور ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ لکھا تھا کہ ابن آدم اپنی دوسری بعثت میں خود نہیں باہر جائے گا تاکہ لوگوں کو بلائے بلکہ وہ : ’’نرسنگے کے بڑے شور کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وے اس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کی اس حد سے اس حد تک جمع کریں گے۔‘‘ (متی باب ۲۴آیت۲۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ۱۸۷۰ء) ۱۸۹۳؁ ء میں امرتسر میں مسیحیوں سے آپؑ کا ایک بڑا مباحثہ ہوا جو پندرہ دن تک ہوتا رہا اس میں پادریوں نے بعض لنگڑے اور اندھے جمع کئے تاکہ ان کو آپؑکے سامنے پیش کرکے کہیں کہ اگر آپؑمسیح ہیں تو ان کو اچھا کریں اور اس طرح آپ ؑکو شرمندہ کریں۔جب وہ لوگ آپ کو دکھائے گئے تو آپؑ نے کہا کہ اندھوں کو آنکھیں دینا اور لنگڑوں کو اچھا کرنا تو تمہاری کتب میں لکھا ہے اور وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر تم میں رائی کے برابر ایمان ہو تو بیماروں پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ اچھے ہوجاؤ تو وہ اچھے ہوجائیں گے۔پس بہتر ہوا کہ آپ لوگ خود ہی بیمار لے آئے۔پس اب ان کو اچھا کرکے بتائیں تا معلوم ہو کہ آپ کے اندر کم سے کم ایک رائی کے دانہ کے برابر تو ایمان ہے!