انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 504

افسوس ! ان نادانوں نے پہلے نبیوں سے سبق نہ سیکھا بلکہ خود مسیحؑ کے حالات سے سبق نہ سیکھا اور نہ معلوم کیا کہ کہ کس طرح خدا کے کلام میں تشبیہیں ہوتی ہیں اگر اس کلام میں تشبیہیں نہیں تو بتائیں کہ آج اس علمی زمانہ میں دیووں کے نکالنے کے کیا معنی ہوں گے؟ اسی طرح ایک دفعہ آپ ؑکو شرمندہ کرنے کی یہ تدبیر کی کہ ایک اشتہار دیا کہ ہم ایک تحریر لکھ کر لفافہ میں بند کردیتے ہیں آپؑ اس کو پڑھ دیں۔آپ نے جواب دیا کہ مَیں اس بات کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ ایک جماعت پادریوں کی دستخط کردے کہ اگر مَیں نے تحریر پڑھ دی تو وہ اسلام قبول کرلیں گے؟ لیکن کسی کو اس کے بعد مقابلہ پر آنے کی جرأت نہ ہوئی۔غرض اسی طرح کئی جگہ آپ نے حق پہنچانے کے لئے سفر کئے اور ظالم لوگوں سے بہت تکالیف دیکھیں، گالیاں بھی سنیں ، لوگوں نے پتھر بھی مارے، گھر پر حملہ بھی کیا۔بعض دفعہ لوگ دور تک آپ کا پیچھا کرتے تا اگر ہوسکے تو پکڑ کر قتل کردیں مگر خدا تعالیٰ نے سب کو ناکام رکھا اور اس مخالفت کے زور کے وقت آپ بار بار شائع کرتے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایاہے کہ وہ مجھے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا اور وہ مجھ کو پہلے مسیح کی طرح دُکھ نہ دے سکیں گے بلکہ اس دفعہ ان کو ظاہری خوشی بھی نصیب نہ ہوگی۔اور آپ کے مخالف آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کی غرض سے آپ کے مارنے کے لئے اور بھی زیادہ کوشش کرنے لگے اور بعض لوگوں کو لالچ دے دے کر مارنے کے لئے بھیجا مگر ہر دفعہ ان کا حملہ ناکام رہا اور یا تو بدنیت دشمن موقع ہی نہ پاسکا اور اس کی نیت کا پہلے سے ہی پتہ لگ گیا اور یا یہ ہوا کہ وہ آپ کے سامنے آکر آپ کی روحانی طاقت سے ایسا متاثر ہوا کہ خود ایمان لے آیا اور بجائے آپ کو مارنے کے خود اپنی جان آپ ؑپر قربان کرنے کے لئے تیار ہوا یا کم سے کم سچائی سے ایسا متاثر ہوا کہ اس نے اصل راز ظاہرکردیا۔غرض ہر تدبیر میں دشمن ناکام رہے۔ایک دفعہ آپ نے یہ دیکھ کر کہ مخالف لوگوں کوباتیں سننے ہی نہیں دیتے یہ تدبیر کی کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ زندہ مذہب کی یہ علامت ہے کہ وہ اپنے اندر زندگی کی روح رکھتا ہو پس بجائے بحثوں اور جھگڑوں کے چاہئے کہ ہم خدا سے اپنی سچائی کی شہادت طلب کریں جس کی خدا شہادت دے اس کی صداقت پر یقین لے آویں اور اس کے لئے چاہئے کہ یا تو دُعا کے ذریعے سے مقابلہ ہو یا اس طرح کیا جائے کہ میرے پاس لوگ آکر چالیس دن تک رہیں اگر اس عرصہ میں وہ کوئی تازہ نشان نہ دیکھیں تو بے شک مجھ کو اور میرے مذہب کو جھوٹا کہیں اور اگر