انوارالعلوم (جلد 6) — Page 472
میں پہنچ چکی ہے اس کی کمیّت اور کیفیت کو دیکھا جائے تو یہ بھی ایک روشن علامت ہوجاتی ہے کیونکہ اس وقت جس طرح عام طور پر بے دینی پھیلی ہوئی ہے اور لوگ مذہب کو ایک غیر ضروری چیز سمجھے ہوئے ہیں اور کسی ایک مذہب کے رہنماؤں کا اثر ہی کم نہیں ہوا بلکہ ہر مذہب کے رہنماؤں کا اثر اپنے پیروئوں پر کم نظر آتا ہے اس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔اس وقت اگر مذہبی پیشواؤں کا کوئی اثر ہے بھی تو صرف سیاسی امور تک محدود ہے پس یہ مذہب سے دُوری اپنے اندر ایک خصوصیت رکھتی ہے۔پس جبکہ آسمانی نوشتے پورے ہوگئے تو ضرور ہے کہ مسیحؑ بھی آچکا ہو اور جواس سے محبت رکھنے والے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی جستجو کریں تا ایسا نہ ہو کہ وہ آکر ان کو پکڑے اور کہے کہ کیا میرے آنے میں دیر ہوگئی تھی کہ تم نے سمجھ لیا کہ اب میں نہیں آتا اورسب باغ اور مکان اور جائدادیں تمہاری ہوگئیں اور تم اب جس طرح چاہو ان میں تصرّف کرو؟ اوراگر وہ اس کی تلاش کریں گے تو انکے لئے اس کا ڈھونڈنا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا کیونکہ اس نے خود اپنے ظاہر ہونے کی جگہ بتا دی ہوئی ہے اور کوئی بات نہیں جو اس نے چھپا رکھی ہو۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جب اس نے زمین پر ظاہر ہونا ہے تو میں اسے کہاں ڈھونڈوں؟ کیا اس نے نہیں کہا کہ :- ’’جیسے بجلی یورپ سے کوندھ کے پچھّم تک چمکتی ویسا ہی ابنِ آدم کا آنا بھی ہوگا۔‘‘ (متی باب ۲۴ آیت ۲۷ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا مطبوعہ ۱۸۷۰ء) پس ضرور ہے کہ جس طرح اس نے تمثیل میں ہمیں سمجھایا ہے وہ مشرق میں ظاہر ہوا اور مغرب کے دُور کناروں تک اس کی تعلیم پھیل جائے اور ایسا ہی ہوا بھی ہے۔وہ ہندوستان جو مشرق کا ملک ہے اور قدیم سے علم اور فضل کا حامل ہے ظاہر ہوا اوربہت جلد اس کی تعلیم مغرب کے دور دراز ممالک میں پھیل گئی اور اس وقت ایشیائی ممالک کے علاوہ یورپ اور امریکہ کے بِلا د میں بھی اس کی روشنی سے فائدہ اُٹھانےوالے لوگ موجود ہیں۔بائبل پر اگر ادنیٰ سا بھی غو ر کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہی زمانہ مسیحؑ کی آمد ثانی کا ہے کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :- ’’یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوںؑکی کتاب منسوخ کرنے کو آیا۔مَیں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا۔جب تک سب کچھ