انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 473

پورا نہ ہو۔‘‘ (متی باب ۵ آیت ۱۷،۱۸ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پورمطبوعہ ۱۸۷۰ء) پس معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک کام موسٰی کی شریعت کو قائم کرنا تھا کیونکہ وہ اپنی آمد کی غرض شریعت کو قائم کرنا بتاتے ہیں بلکہ اپنے حواریوں کو حکم دیتے ہیں کہ ’’فقیہ اور فریسی موسٰی کی گدی پر بیٹھے ہیں اس لئے جو کچھ وے تمہیں ماننے کو کہیں مانو اور عمل میں لاؤ۔‘‘ (متی باب ۲۳ آیت ۲،۳نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور دوسری غرض ان کی آمد کی جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں یہ تھی کہ خدا کی بادشاہت کی منادی کریں۔جیسا کہ لکھا ہے کہ مسیحؑنے اپنے دعویٰ کی ابتداء ہی سے یہ منادی کرنی ’’اور یہ کہنا شروع کیا کہ توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی۔‘‘ (متی باب ۴ آیت ۱۷ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اور آخر زمانہ میں بھی وہ یہی کہتا رہا کیونکہ جب اس نے حواریوں کو تبلیغ کا کام سپرد کیا تو تب بھی ان کو یہی ہدایت دی کہ ’’چلتے ہوئے منادی کرو اور کہو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آئی۔(متی باب ۱۰ آیت ۷ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزاپور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) اورجیسا کہ لوقا کی روایت کے مطابق یہ کہا کہ ’’ان سے کہو کہ خدا کی بادشاہت تمہارے نزدیک آئی۔‘‘(لوقا باب ۱۰ آیت ۹) خدا کی بادشاہت سے مراد مسیح علیہ السلام کی آمد نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ اپنی عمر بھر اس پر زور دیتے رہے کہ ان کی آمد ایسی ہے جیسے بیٹے کی آمد اور خدا کی آمد اس وقت ہوگی جب لوگ ان کو پھانسی دے دیں گے۔چنانچہ وہ اس واقعہ کو تمثیل میں یوں بیان کرتے ہیں:- ’’کس شخص نے ایک انگور کا باغ لگا کے اسے باغبانوں کے سُپرد کیا اور مدت تک پردیس میں جارہا اور موسم پر ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تا کہ وے اس انگور کے باغ کا پھل اس کو دیں۔لیکن باغبانوں نےاس کو پیٹ کے خالی ہاتھ پھیرا۔پھر اس نے دوسرے نوکر کو بھیجا انہوں نے اس کو بھی پیٹ کے اور بے عزت کرکے خالی پاتھ پھیرا۔پھر اس نے تیسرے کو بھیجا انہوں نے گھائل کرکے اس کو بھی نکال دیا۔تب اس باغ کے مالک نے کہا کہ کیا کروں؟مَیں اپنے پیارے بیٹے کو بھیجوں گا شاید اسے دیکھ کر دب جائیں۔جب باغبانوں نے اسے دیکھا آپس میں صلاح کی اور کہا کہ یہ وارث *نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور ۱۸۷۰ء