انوارالعلوم (جلد 6) — Page 410
اور تیسرایہ ہے کہ اگر سزا ملے تو آخر میں بند کرا دے گی۔جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن دوزخ میں سے سب لوگ نکال لئے جائیں گے اور ہوا دوزخ کے دروازے کھٹکھٹائے گی۔دوسرے اس صفت کا ظہور اس طرح ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ گناہوں سے بچنے کے سامان پیدا کرتا رہتا ہے ،نبی بھیجتا ہے، مجدّد آتے ہیں، ما ٔمور مقرر ہوتے ہیں اورپھر مشکلات اور مصائب آتے ہیں تا کہ بندہ کی توجہ خدا کی طرف پھیریں۔چوتھے اس طرح کہ جب خدا تعالیٰ کسی کے متعلق کسی سزا کا حکم دیتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی دوسری صفات رحمت نہیں روکی جاتیں بلکہ مختلف صفات اپنے اپنے حلقہ میں کام کرتی رہتی ہیں ایک دوسری کے راستہ میں روک نہیں ہوتی۔مثلاً اگر کسی پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہو اور جس رنگ کا اس نے قصور کیا ہے اس کے مطابق کوئی صفت رحمت اس سے روک لی جائے تو یہ نہیں کیا جائے گا کہ دوسری صفات رحمت کو بھی اس سے روک دیا جائے۔وہ پہلے کی طرح اس شخص کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں فائدہ پہنچاتی رہیں گی۔یہ خدا تعالیٰ کا فعل انسانی افعال سے بالکل مختلف ہے۔کسی انسان کا کوئی نوکر جس کو اس نے ہزاروپیہ خرچ کرنے کے لئے دیا ہو اس میں کچھ خیانت کرلے تو وہ اس کو نوکری سے ہٹا دے گا پھر اسی پر بس نہ کرے گا بلکہ اس سے بولنا بھی ترک کردے گا اور سارے تعلقات قطع کرلے گا۔اس کے برخلاف خدا تعالیٰ کسی گناہ کی وجہ سے کسی صفت رحمت کو روک لیتا ہے تو باقی رحمت کی صفات کو بند نہیں کردیتا بلکہ ان کو بھی جاری رکھتا ہے۔مثلاً نبی کے مخالفوں کے متعلق ادھر تو صفت شدید الانتقام جاری ہوگی کہ جو اس کا شدید مخالف ہے اسے ماردو مگر ادھر خدا تعالیٰ کی صفت ستاری بھی اپنا عمل کررہی ہوگی۔اس کے دل میں جو کچھ گند ہوتا ہے اس کو ظاہر نہیں کیا جائے گا لوگوں کو اس کے پوشیدہ در پوشیدہ گناہ نہیں بتلائے جائیں گے۔اگر بیماری کا حکم ہوا ہے تو جائدادیں برابر محفوظ رہیں گی رزق ملتا رہے گا پھر مرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کی محی کی صفت جاری ہوگی اس کو زندہ کیاجائے گا اوراصلاح کی صفت جاری ہوگی جہنّم کے علاج کےذریعہ سے اس کی روحانی بیماریوں کو دور کیاجائے گا۔غرض خدا تعالیٰ کی صفات کے جاری ہونے کا اور قاعدہ ہے۔ہمارا تو یہ حال ہوتا ہے کہ اگر کسی سے محبت ہوئی تو ہر رنگ میں محبت ہی کی جاتی ہے اور اگر ناراضگی ہوئی تو ہررنگ میں ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے مگر خدا تعالیٰ اگر اپنی ایک صفت کو انسان کی کسی غلطی سے روکتا ہے تو باقی صفات کو جاری رکھتا ہے۔غرض خدا *کنزالعمال جلد ۱۴ ص۵۲۷روایت نمبر ۵۰۶