انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 409

کس نے نہیں بیان کئے۔یہ ایک ہی الہام دیکھ لو کتنے وسیع مضمون اس میں بیان کئے گئے ہیں۔خدا کی صفات کس طرح جاری ہوتی ہیں؟ اب یہ بات رہ گئی کہ خدا کی صفات کس طرح جاری ہوتی ہیں اس کے متعلق پہلے تو یاد رکھنا چاہیئے کہ بندوں سے خدا تعالیٰ کی جو صفات تعلق رکھتی ہیں ان میں خدا نے رحمت کا وسیع دائرہ کھینچا ہے چنانچہ فرماتا ہے رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئیٍ میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے تو اس صفت کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ سب کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ سب صفات کے ظہور پر غالب ہوتی ہے حتّٰی کہ خدا تعالیٰ کے علم پر بھی رحمت ہی غالب ہے۔شاید اس بات پر تعجب ہو کہ خدا تعالیٰ کے علم پر رحمت کس طرح غالب ہے۔مگر اس کا پتہ اس سے لگتا ہے کہ مبشرات خدا تعالیٰ کی طرف سے زیادہ آتے ہیں اور منذرات کم حتّٰی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر منذر رؤیا زیادہ آ ئیں تو شیطانی ہوتی ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے منذر رئویا نہیں آتیں کیونکہ ایسی خوابیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آتی تھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جسے ڈراؤنی خوابیں ہی آتی رہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس شخص کو متواتر سلسلہ الہامات کا جاری ہو اس میں مبشرات کا پہلو غالب ہوتا ہے کیونکہ متواتر الہام خدا کے پیاروں کو ہی ہوسکتے ہیں اور جو پیارے ہوں وہ عذاب کی نسبت انعام کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ کا علم جو بندوں سے تعلق رکھتا ہے اس پر بھی اس کی رحمت وسیع ہوتی ہے اور دنیاوی علوم کے انکشاف میں بھی صفت رحمت ہی وسیع ہے کیونکہ جو علوم دریافت ہوتے ہیں ان میں رحمت کا پہلو غضب کے پہلو پر غالب ہوتا ہے۔خدا کی صفت رحمت کی وسعت یہ وسعت کئی طریق پر ہوتی ہے ایک تو اس طرح کہ انسان گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ معاف کردیتا ہے کئی قسم کی بد پر ہیز یاں انسان کرتا ہے مگر اکثر ان کے نتائج سے بچ جاتا ہے اور کبھی پھنس بھی جاتا ہے۔دوسرے اس طرح کہ خدا تعالیٰ گناہوں کی سزا میں جس کا وہ کسی وجہ سے مستحق ہوتا ہے کمی کردیتا ہے اور جس قدر سزا دی جاتی ہے اس میں بھی رحمت غالب رہتی ہے تو سزا جو شدید العقاب صفت کے ماتحت ہوتی ہے اس پر بھی رحمت ہی محیط ہے گویا سب سے بڑا دائرہ رحمت کا ہے اور اس کا ایک درجہ تو یہ ہے کہ سزا بالکل معاف کرادیتی ہے۔دوسرا یہ کہ سزا کم کرادیتی ہے