انوارالعلوم (جلد 6) — Page 23
پہنچنا ثبوت ہے اس بات کا کہ اسلام سچّا ہے۔کیونکہ خدا نے بتایا تھا کہ ایسا ہوگا اور ایسا ہی ہوا اور دشمن سے دشمن کو اقرار کرنا پڑا کہ ہاں اسلام نے ترقی کی۔اور اس کی ترقی کی اس وقت پیشگوئی کی گئی تھی جبکہ مسلمانوں کو اپنے گھر میں بھی کوئی آرام سے نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔مگر پھر حکومت آئی اور غریبوں اور فقیروں کو خدا تعالیٰ نے حکومتیں دیں۔حضرت ابوہریرہؓ کا واقعہ چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ کا واقعہ ہے کہ جب وہ ایک علاقہ کے گورنر بنائے گئے۔اوران کے پاس کسریٰ کا ایک رومال تھا جب کھانسی آئی تو انہوں نے اس رُومال سے مُنہ صاف کیا اور کہا بخ بخ ابوہریرہ۔٭ اس کے معنے ہیں واہ واہ ابوہریرہ۔آج تو کسریٰ کے رومال میں تُھوکتا ہے مگر ایک وقت تو تیری یہ حالت تھی کہ تجھ پر دنوں فاقے گزرتے تھے اور تو حضرت ابوبکر کے پاس جاتا تھا کہ وہ بڑے صدقہ کرنے والے تجھے اوران سے آیتِ صدقہ کے معنے پوچھتا تھا اور وہ بتاتے تھے۔حالانکہ معنےتجھ کو بھی آتےتھےپھر حضرت عمرؓ کے پاس جاتا۔اوروہ بھی کچھ نہ کھلاتے۔آخر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور آپ چہرہ سے ہی پہچان جاتے اور۔پُوچھے ابوہریرہ بھُوک لگی ہے اور پھر آپ دودھ کا پیالہ منگواتے اور مجھ سے پہلے اورلوگوں کو پینے کو دیتے اور مَیں خیال کرتا کہ مستحق زیادہ میں تھا۔آخر مجھ کو ملتا اور میں سَیر ہوتا(بخاری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبیؐواصحابہ و تخلیھم من الدنیا ) اسی طرح کئی فاقے گذر جاتے اور لوگ مجھے مرگی زدہ خیال کرکے مارتے لیکن آج یہ حال ہے کہ گردن کش بادشاہوں کے خاص درباری رومالوں میں تو تُھوکتا ہے۔یہ کامیابی یہ عروج یہ رفعت کوئی معمولی نہیں ہے۔فرانس کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ میں حیران رہ جاتا ہوں جب مَیں یہ سوچتا ہوں کہ کھجور کے ایک ادنیٰ درجہ کے چھپر کے نیچے چند آدمی بیٹھے ہیں۔جن کے جسم پر پُورا کپڑا نہیں اور پیٹ بھی سیر نہیں۔وہ باتیں یہ کرتے ہیں کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو فتح کرلیں گے اور وہ کرکے بھی دکھا دیتے ہیں۔پس یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم جو مذہب لائےوہ حق ہے کیونکہ اس کے لئے جو نشان رکھا گیا تھا وہ پورا ہوگیا۔مخالفوں کا اس دلیل پر ایک اعتراض یہ اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے۔لیکن اگر دشمن آج اس کو جھٹلا دے اور کہدے کہ یہ مسلمانوں نے بعد میں قرآن کریم میں آیتیںملادی ہیں جیسا کہ مخالفوں نے کہا بھی ہے اس لئے یہ اسلام کی صداقت کی دلیل نہیں ہےکیونکہ اگر یہ دلیل ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج جبکہ مسلمانوں کی تعداد بے شمار *ترمذی أبواب الزھد باب ماجاء فی معیشة أصحاب النبیؐ