انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 310

پاس وہ تعلیم لایا جو وہ لایا ہے تو تم کہنے لگ گئے کہ وہ جھوٹا ہے خدا کی قسم ان حالات میں وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اس شخص کے اس جواب پر سب نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اوراس اعتراج کی بجائے اوربات سوچنے لگے۔کیسی سچّی بات تھی جو اس شخص نے پیش کی اگر پہلے کبھی رسول کریم ؐکی طرف انہوں نے جھوٹ منسوب کیا ہوتا تو اب کوئی مان سکتا تھا۔لیکن جب پہلے وہ ساری عمر آپؐکو صادق کہتےرہے تھے تو پھر یکدم جھوٹ کے الزام کو کون سچّا مان سکتا تھا۔اسی طرح ہر قل نے جب ابوسفیان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا کہ انہوں نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو اس نے کہا آج تک تو نہیں بولا اورکہا کہ آج تک کا لفظ مَیں نے اس لئے لگایا تا کہ شبہ پڑ سکے کہ شاید آئندہ بولے۔اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ پر چڑھ کر لوگوں کو بلایا اورجب وہ جمع ہوگئے تو فرمایا کیا اگر مَیں تمہیں کہوں کہ فلاں وادی میں ایک فوج جمع ہے جو تم پر حملہ کرنےوالی ہے تو مان لو گے حالانکہ مکّہ والوں کی بے خبری میں اس قدر فوج اس قدر قریب جمع نہیں ہوسکتی تھی۔پس ان لوگوں کا اس قسم کی بات بھی جو بظاہر ناممکن الوقوع ہو آپؐکے منہ سے سن کر ماننے کے لئے تیار ہوجانا بتاتا ہے کہ آپ ؐکی صداقت پر ان لوگوں کو اس قدر یقین تھا کہ وہ یا نا ممکن خیال کرتے تھے کہ آپ جھوٹ بول سکیں یا دھوکا دے سکیں۔اس طبقہ اور اس درجہ کے لوگ ہیں جو اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ انہوں نے خدا سے الہام پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نےان کو دنیا کی اصلاح کیلئے مبعوث کیا ہے یہ لوگ دنیا کےسب سے بڑی مصلح گزرے ہیں اوراپنے اخلاق کی خوبی اور مضبوطی کی وجہ سے انہوں نے لاکھوں آدمیوں کے دلو ں پر اس طرح قبضہ کیا ہے کہ وہ لوگ اپنی جانیں اوراپنے مال ان کی راہ میں قربان کرنے کو بہترین نعمت خیال کرتے تھے اورپھر دُنیا کےذہنی ارتقاء میں جو ان لوگوں نے یا ان کے اتباع نے حصہ لیا ہےاور کسی نےاس قدر حصہ نہیں لیا۔پس ان لوگوں کی ایسی کھلی کھلی اور زبردست شہادت کی موجودگی میں کس طرح انکار کیا جاسکتا ہے کہ ایک زبردست ہستی ہے جو اس دنیا کی خالق اوراس کی مالک ہے۔اگر ایسی زبردست شہادت کو رد کیاجائے تو اصول شہادت کا بالکل ستیاناس ہوجاتا ہےاور کوئی علم بھی دُنیا میں ثابت نہیں ہوسکتا اور عقل سلیم ہرگز تسلیم نہیں کرتی کہ معمولی معمولی شہادتوں کو تو قبول کیا جائے مگر اس قدر زبردست شہادتوں کو رد کردیا جائے۔*بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدءالوحی الی رسول اللہ ؐ*بخاری کتاب التفسیر سورة اللہب آیت تبت یداابی لھب