انوارالعلوم (جلد 6) — Page 309
گذرے ہیں وہ اپنے چال چلن اور صداقت کی معیت کی وجہ سے ایسے مقام پر تھے کہ ان کے دشمن بھی ان پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں پاتے تھے اور اسی طرح ان کے اتباع میں سے لاکھوں صاحب کشوف و الہام لوگ ہوئے ہیں کہجن کا چال چلن بھی ہرقسم کے شبہ سے بالا تھااوران کی راستبازی کا اعتراف ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔حضرت موسیٰؑ کی پاک زندگی دیکھو فرعون حضرت موسٰی کا کتنا سخت دشمن تھا مگر اس میں بھی یہ جرأت نہ تھی کہ ان پر جھوٹ کا الزام لگائے۔اس نے یہ تو کہا کہ یہ پاگل ہوگیا ہے یونہی باتیں بناتا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکا کہ ان کا چال چلن خراب ہے حالانکہ وہ اس کے گھر میں پلے تھے اگر ان میں کوئی خرابی ہوتی تو وہ ضرور بتاتا کہ ان میں یہ خرابی ہے۔رسول کریم ﷺکی پاک زندگی اسی طرح ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیکھتے ہیں کہ آپ کے دشمنوں نے اقرار کیا کہ آپ صادق اور امین تھے اورآپؐپر انہوں نے کوئی الزام نہ لگایا بلکہ دشمن سے دشمن نے بھی آپؐکی طہارت اور پاکیزگی کی شہادت دی۔چنانچہ پوچھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گےسارے مل کر ایک جواب بنالو تا کہ اختلاف نہ ہو آگے ہی ہم بدنام ہورہے ہیں کہ ایک کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ کہتا ہے اس لئے حج پر جو لوگ آئیں گے انہیں کہنے کے لئے ایک بات کا فیصلہ کرلو اس پر ان میں سے ایک نے کہا یہ کہہ دینا کہ جھوٹ کی عادت ہے جو کچھکہتا ہے سب جھوٹ ہے۔یہ سن کر ایک شخص جس کا نام نصر بن حارث تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا یہ بات نہیں کہنی چاہئے اگر یہ کہو گےتو کوئی نہیں مانے گا اور لوگ جواباً کہیں گے کہ کَانَ مُحَمَّدٌ فِیْکُمْ غُلَا مًاحَدَثًا اَرْضَاکُمْ فِیْکُمْ وَاَصْدَقَکُمْ حَدِیْثًا وَاَعْظَمَکُمْ اَمَانَۃً حَتّٰی اِذَارَئَیْتُمْ فِیْ صُدْغَیْہِ الشَّیْبَ وَجَآءَکُمْ بِمَا جَآءَکُمْ قُلْتُمْ سَاحِرٌ لَا وَاللہِ مَا ھُوَ بِسَاحِرٍ۔٭ محمدنے تم میں جوانی کی عمر بسر کی ہے اور اس وقت وہ تم سب سے زیادہ نیک عمل سمجھا جاتا تھا اورسب سے زیادہ سچا سمجھا جاتا تھا اورسب سے زیادہ امانت کا پابند تھا یہاں تک کہ جب اس کی کنپٹیوں میں سفید بال آگئے اور وہ تمہارے *سیرت ابن ہشام جلد ۱،۲ ص۲۹۹،۳۰۰ موسسہ علوم القرآن