انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 15

دُنیا کے مذاہب یہ غلط ہے جیسا کہ ہمارے ملک کے لوگ عموماً کہتے ہیں کہ مذہب صرف دو ہی ہیں ہندو اور اسلام۔مذاہب کی اس قدر تعداد ہے کہ جن کا شمار نہیں۔اگر ان سب کے حالات لکھے جائیں تو بہت بڑا کتب خانہ تیارہوسکتا ہے۔چنانچہ یورپ والوں نے مذاہب کا انسائیکلو پیڈیا لکھنا شروع کیا ہے جو اب تک اگر چہ مکمل نہیں ہوا مگر جتنی اس کی جلدیں نکل چکی ہیں۔ان میں ہزاروں مذاہب کے نام اور حالات درج ہوچکے ہیں اور ایک شخص ان حالات کو پڑھ کر حیران ہوجاتا ہے کہ کس کو مانے اور کس کو چھوڑے۔اختلاف کی ابتداء مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اختلاف اصل میں پیدائش سے شروع ہوتے ہیں۔جس گھر میں انسان پیدا ہوتا ہے ان گھر والوں کے خیالات جس قسم کے ہوتے ہیں انہی خیالات میں وہ پرورش پاتا ہے اور وہی اس کے خیالات ہوجاتے ہیں۔ایک شخص مسلمان کے گھر میں پیدا ہوتا ہے۔وہ قرآن کریم کو سمجھتا تو کیا ایک لفظ بھی نہیں پڑھ سکتا۔کلمہ شہادت تک سے ناواقف ہوتا ہے اور ساری عمر میں ایک آدھ دفعہ بھی کلمہ شہادت نہیں پڑھتا مگر مسلمان کہلاتا ہے اور اسلام کے نام پر دوسروں سے لڑنے کو تیار ہوجاتا ہے۔اسی طرح ایک شخص ہندو کے گھر میں پیدا ہوتا ہے۔اگر مسلمان مولوی اور ہندو پنڈت میں بحث ہو تو مسلمان کو جھُوٹا اور پنڈت کو سچا بتائے گا اور پنڈت کے کہنے سے ہندو مذہب کے نام پر دوسرے کی جان کا دشمن ہو جائیگا اور کہے گا کہ یہ مسلمان ہندوں مذہب کی ہتک کرتا ہے اور یہی حال مسلمان کا ہوگا۔اگر چہ یہ دونوں ہی مذہبی کتب کے شائع شدہ ترجمہ سے بھی ناواقف ہونگے اور اس طرح اپنے عمل سے اپنے مذہب کی ہتک کر رہے ہونگے۔اگر ان سے پوچھا جائے کہ تم ہندو یا مسلمان کیوں ہو تو وہ اس کا جواب نہیں دے سکیں گے ہاں یہ کہدینگے کہ چونکہ فلاں بات ہمارے مذہب کی کتاب میں ہے اس لئے ہم مانتے ہیں یا مولوی صاحب یا پنڈت صاحب نے ہمیں یُوں بتائی ہے اس لئے ہم مانیں گے۔یہی حال ایک عیسائی کا ہوگا۔وہ عیسائیت کے لئے تلوار تک اُٹھا لے گا مگر اس کا جواب دینے سے انکار کریگا کہ وہ کیوں عیسائی ہوا۔ہاں یہ کہدے گا کہ میرے ماں باپ عیسائی ہیں ان سے میں نے سُنا ہے کہ عیسائی مذہب سچا ہے اور ہم اس کے پیرو ہیں۔اس لئے میں بھی عیسائی ہوں۔یہ جہالت اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔||********** Individual Book PDF Page Single PDF Page 14 of 547 Vol Printed Page 16 **********|| ایک بوڑھے حاجی کی اپنے مذہب سے بے خبری ۱۹۱۳؁ ءمیں جب مَیں حج کے لئے گیا تو ایک ہندو ستانی بوڑھا ضعیف عبدالوہاب نام بھی ہمارا ہمسفر تھا۔حج کے بعد ہیضہ کی وباء پھُوٹ پڑی اور چونکہ مدینہ شریف کے حالات اطمینان بخش نہ تھے اورمیری صحت بھی اچھی نہ تھی اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ امسال مدینہ شریف کی زیارتکو ملتوی کردیا جائے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اگر موقع دیا تو کرینگے۔وہ بوڑھا عبدالوہاب بہت معمر اور نہایت کمزور تھا اور اس کے پاس زاد راہ بھی نہ تھا مَیں نے اس کو کہا کہ تم بھی لوٹ چلو۔اس نے کہا کہ مَیں مدینہ ضرور جائوں گا۔کیونکہ میرے بیٹوں نے کہا تھا کہ وہاں ضرور جانا۔مَیں نے اس کو بتایا جہ جس حال میں تم ہو اس میں تم پر مدینہ شریف جانا شریعت کی رُو سے ضروری نہیں مگر وہ کیلئے بہت مصر ہوا اور چلا گیا۔غالبًا اسی سفر میں فوت ہوگیا ہوگا۔مَیں نے اس سے پوچھا ،میاں عبدالوہاب تمہارا مذہب کیا ہے کہنے لگا پھر بتاؤں گا۔میں نے کہا یہ سوال تو ایسا نہیں جو تم پھر بتانےکے لئے رکھ چھوڑوں ابھی بتادو۔اس نے کہا سوچ کر بتاؤں گا مَیں اورحیران ہوا۔پھر پوچھا تو اس نے کہا کہ وطن سے لکھ کر بھیجد وں گا۔آخر میرے اصرار پر کہنے لگا کہ اچھا سوچ کر بتاتا ہوں۔میرا مذہب علیہ ہے مَیں حیران ہوا کہ یہ کونسا مذہب ہے۔میں نے پوچھا یہ کونساہے۔کہنے لگا سوچنے تو دو۔دو تین دفعہ کہ اُلٹ پھیر کے بعدا سنے کہا۔اعظم رحمۃ اللہ علیہ میرا مذہب ہے۔جس سے اس کا مطلب تو معلوم ہوگیا کہ وہ امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے مگر اس کی تمام حیرانی سےیہ معلوم ہوگیا کہ اس نے یہ بھی کہیں بچپن میں ہی سُنا ہوگا۔یہ تو اس کی حالت تھی۔مذہب سے بے خبری اسی طرح مَیں نے ایک اور تاجر کو اس وقت جبکہ حاجی لبیک لبیک کے نعرےلگا رہے تھے دیکھا کہ وہ گندے عشقیہ شعر پڑھ رہا تھا۔مَیں نے بعد میں اس سے حج کی غرض پُوچھی تو اُس نے بتایا کہ ہمارے ملک میں لوگ حاجی کو زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔اب مَیں یہاں سے جاکر اپنی دکان پر بورڈ لگوائوںگا کہ حاجی فلاں۔اس سے میری تجارت چمک جائیگی۔یہ مسلمانوں ہی کی حالت نہیں بلکہ مَیں نے ہندوئوں ، عیسائیوں ، سکھوں کو اکثر ٹٹولا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ وپ اپنے آپ کو جس مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں اس سے قطعاً ناواقف ہیں۔وہ دلائل سے کسی مذہب کے پابند نہیں۔بلکہ آبائی طور پر پابند ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ فطرتاً اسلام پر پیدا ہوتا ہے مگر ماں باپ اس کو یہودی یا مجوسی یا عیسائی بنادیتے ہیں۔٭مَیں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں مسلمانوں کو دیکھا ہے کہ وہ کلمہ شہادت صحیح نہیں پڑھ سکتے لیکن مذہب کے لئے لڑنے مرنے کیلئے *بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبی فمات ھل یصلی علیہ