انوارالعلوم (جلد 6) — Page 263
۶، ۷’’معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا (نبی اللہ کا ظہور مصنفہ ظہیر الدین ) جماعت احمدیہ نے کچھ نوٹس نہیں لیا۔مگر غالباً اس کتاب کا مضمون یا اسی قسم کے مضمون کا کوئی اور ٹریکٹ حضرت مولوی نورالدین صاحب مرحوم (جو اس وقت امام جماعت احمدیہ تھے) کے نوٹس میں لایا گیا اور مولوی صاحب موصوف کی طرف سے ایک اعلان اخبار بد ر مورخہ ۱۱ ؍جولائی ۱۹۱۲ء میں شائع ہوا جس کا مضمون یہ تھا کہ چونکہ محمد ظہیر الدین نئے عقائد کا اظہار اور اشاعت کر رہا ہے اس لئے اس جماعت احمدیہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں سمجھنا چاہئیے۔‘‘ ۸’’وہ جنہوں نے مسیح موعودؑکو قبول نہیں کیا صرف مسیح موعودؑ کے منکر ہیں اور حاطۂ اسلام سے واقع میں خارج نہیں‘‘۔۹’’اور وہ اللہ کو اس کی ان صفات سے منسوب نہیں کرتے جن کا وہ مستحق ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک فانی (انسان ) کو کچھ وحی نہیں کی۔کہو! کس نے وہ کتاب وحی کی تھی ؟ جو موسیٰؑلایا تھا اور لوگوں کے لئے نُور اور ہدایت تھی جس کے تم متفرق صحیفے بناتے ہو۔جو تم دکھاتے ہو۔حالانکہ تم بہت کچھ چھپاتے ہو اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جو تم نہ جانتے تھے نہ تم اور نہ تمہارے آباء کہو اللہ۔پھر ان کو ان کی باتوں میں کھیلتا چھوڑ دے۔‘‘