انوارالعلوم (جلد 6) — Page 223
کے لئے کسی اخبار کا پتہ دیا گیا تھا اور گو یہ اخبار پیغام نہ ہو اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے نہیں تھا۔مگر اس سے یہ پتہ ضرور چلتا ہے کہ اس ٹریکٹ کے لکھنے والے کا تعلق اخبارات سے ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ معاضرانہ تعلقات کی بناء پر ایک اخبار دوسرے اخبار کے عملہ کی خدمت بالعموم کردیا کرتے ہیں۔۴ :- اس ٹریکٹ میں انہیں خیالات کی اشاعت تھی جو مولوی محمد علی صاحب اوران کے رفقاء کے تھے سوائے اس کے کہ حضرت خلیفۃ اوّل کی نسبت کسی قدر زیادہ سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔مگر بیسیوں ایسے گواہ ہمارے پاس موجود ہیں جو شہادت دیتے ہیں کہ اپنی علیحدہ مجلسوں میں مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیالوں میں سے بعض بڑے آدمی نہایت سخت الفاظ حضرت خلیفہ اول کی نسبت استعمال کیا کرتے تھے اور حضرت مولوی صاحب کی تعریف کی پالیسی آپ کی وفات کے بعد شروع ہوئی ہے بلکہ خفیہ طور پر خطوں میں بھی ایسے الفاظ استعمال کرلیتے تھے۔چنانچہ ان کے دو بڑے رکنوں کے ان خطکوط میں سے جو انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں سیّد حامد شاہ صاحب مرحوم کو لکھے۔ہم بعض حصہ اس جگہ نقل کرتے ہیں۔پہلا خط سیّد محمد حسین صاحب ان کی صدر انجمن کے محاسب کا ہے۔وہ سیّد حامد شاہ صاحب کو لکھتے ہیں:- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اخی مکرمی جناب شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۱۹۰۹؍۱۰؍۱ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جناب کا نوازش نامہ پہنچا حال معلوم ہوا۔قادیان کی نسبت دل کو بٹھا دینے والے واقعات جناب کو شیخ صاحب نے لکھے ہوں گے۔وہ باغ جو حضرت اقدس ؑ نے اپنے خون کا پانی دے دے کر کھڑا کیا تھا۔ابھی سنبھلنے ہی نہ پایا تھا کہ باد خزاں اس کو گرایا چاہتی ہے۔حضرت مولوی صاحب٭کی طبیعت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سُن ہی نہیں سکتے۔وصیت کو پس پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام کی بے پراوئی کرتے ہوئے شخص وجاہت اورحکومت ہی پیش نظر ہے۔سلسلہ تباہ ہو تو ہو مگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ٹلے پر *خلیفہ اول