انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 224

نہ ٹلے۔وہ سلسلہ جو کہ حضر ت اقدس کے ذریعہ بنایا تھا اور جو کی بڑھے گا اور ضرور بڑھے گا۔وہ چند ایک اشخاص کی ذاتی رائے کی وجہ سے اب ایسا گرنے کو ہے کہ پھر ایک وقت کے بعد ہی سنبھلے تو سنبھلے سب اہل الرائےاصحاب اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔اور حضرت مرزا صاحب سلمہ الہ تعالیٰ کے مرتے ہی سب نےا ٓپ کے احسانات کو بھلا آپ کی ویت کو بھلادیا۔اورپیر پرستی جس کی بنیاد کو اُکھاڑنے کے لئے یہ سلسلہ اللہ نے مقرر یا تھا۔قائم ہورہی ہے اورعین یہ شعر مصداق اس کے حال کا ہے ؎ بیکسے شد دین احمد، یچ خویش و یار نیست ہر کسے درکار خود بادین احمد کا رنیست کوئی بھی نہیں پوچھتا کہ بھائی یہ وصیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ یہ تو اللہ کی وھی کے ماتحت لکھ گئی تھی۔کیا یہ پھینک دینے کے لئے تھی؟اگر پوھا جاتا ہے تو ارتداد کی دھمکی ملتی ہے۔اللہ رحم کرے۔دل سخت بیکلی کی حالت میں ہے۔حالات آمدہ از قادیان سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب فرماتا ہے کہ بمب کا گولہ دس دن تک چُھوٹنے کو ہے ج کہ سلسلہ کو تباہ و چکنا چُور کردیگا۔اللہ رحم کرے۔تکبّر اور نخوت کی کوئی حد ہوتی ہے۔نیک ظنی نیک ظنی کی تعلی دیتے دیتے بدظنی کی کوئی انتہا نظر نہیں آتی۔ایک شیعہ کی جہ سے سلسلہ کی تباہی۔اللہ رحم کرے۔یا الٰہی ہم گنہگار ہیں تُو اپنے فضل و کرم سے ہی میں بچا سکتا ہے۔اپن خاص رحمت میں لے لے۔اورہم کو ان ابتلائوں سے بچالے آمین۔اور کیا لکھوں۔بس حد ہورہی ہے وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خاص تائید الٰہی ہو۔تا کہ یہ اس کا سلسلہ اس صدمہ سے بچ جاوے۔آمین۔سب برادران کی خدمت میں السلام علیکم اور دُعا کی درخواست۔خاکسار سیّد محمد حسین (تاریخ احمدیت جلد ۴ صفحہ ۲۸۸) دوسرا خط مرزا یعقوب بیگ صاحب ان کی صدر انجمن کے جزل سیکرٹری کا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس خط کا مضمون شیخ رحمت اللہ صاحب اور سیّد محمد حسین شاہ صاحب کے علم سے اوران کی پسندیدگی کے بعد بھیجا گیا ہے۔کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ شیخ صاحب اور شاہ صاحب کی طرف سے بھی مضمون واحد ہے:- حضرت اخی المکرم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ سِردست تو قادیان کی مشکلات کا سخت فکر ہے۔خلیفہ صاحب کا تلوّن طبع بہت بڑھ گیا ہے