انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 7

خدا کے فضل سے جاری ہے۔مکاملہ الٰہیہ کی ایک مثال میں اپنا واقعہ پیش کرتا ہوں ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ایک ڈاکٹر مطلوب خان جو کالج سے عراق میں بھیجے گئے تھے ان کے متعلق ان کے ساتھیوں کی طرف سے اور سرکار ی طور پر خبر آئی کہ وہ فوت ہوگیا ہے۔ان کے والد اس خبر سے تھوڑا عرصہ پہلے قادیان آئے تھے جو بہت بوڑھے تھے۔مجھے خیال تھا کہ مطلوب خان اپنے باپ کا اکیلا بیٹا ہے۔بعد میں معلوم ہوا وہ ساتھ بھائی ہیں۔ماں باپ کا ایک بیٹا ہونے کے خیال سے اور اس کے باپ کے بوڑھا ہونے پر مجھے قلق ہوا۔اِدھر ہمارے میڈیکل سکول کے لڑکوں کو جب اس کی موت کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ وہ ملٹری خدمات کرنے سے انکار کردینگے مجھے لڑکوں میں بے ہمتی پیدا ہونے کے خیال سے بھی قلق ہوا۔اس پر میں نے دُعا کی اور مجھے رئویا میں بتایا گیا کہ گھبراؤ نہیں وہ زندہ ہے میں نے صبح کے وقت اپنے بھائی کو یہ بتایا اور انہوں نے اس کے رشتہ دار کو بتایا اور یہ خبر عام ہوگئی۔اس سےکچھ دنوں کے بعد خبر آئی کہ وہ زندہ ہے دشمن کے قبضہ میں آگیا تھا۔غلطی سےمُردہ سمجھ لیا گیا۔کیا انسانی دماغ اس خبر کو وضع کرسکتا تھا۔اگر دماغی اثرات کے ماتحت اس خبر کو رکھا جائےتو ایسا ہو نہیں سکتا۔کیونکہ دماغ کو وضع خیالات کے اُلٹ نہیں دکھایا کرتا۔حالات اور خیالات کے خلاف کِس امر کا رؤیا میں معلوم ہونا اور پھر اس کا پُورا ہوجانا یہ ثبوت ہےاس بات کا کہ جن بندوں کا خدا سے تعلق ہوتا ہے ان کو خدا کو باتیں بتاتا ہےاور غم و فکر سے انہیں نجات دیتا ہے میرے دل کو جو اس خبر سے صدمہ ہوا تھا وہ میرے خدا نے اس طرح دُور کردیا اور ہماری جماعت میں سیکنڑوں ایسے آدمی ہیں جن سے خدا باتیں کرتا ہے اور ان کو عزت دیتا اور ان کے مخالفوں کو ذلّت پہنچاتا ہے اور پہلے مدد کا وعدہ کرکے پھر ایفاء کرتا ہے ایسے لوگوں کی اگر ساری دنیا بھی مخالف ہوجائے تو ناکام رہتی ہے اور وہ کامیاب ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئیاں خدا کی ہستی کا ثبوت ہے حضرت مسیح موعود نے جب دعویٰ کیا کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور خدا مجھ سے کلام کرتا ہے تو اپنے بیگانے سب آپکے مخالف ہوگئے۔اسی لاہور میں آپ پر پتھر پھینکتے گئے۔امرتسر میں ایک موقع پر عوام نے کثرت سےپتھر مارے۔پھر پادریوں نے آپ پر اقدام قتل کے مقدمے کرائے اورسب نے ملکر آپ کے خلاف زور لگایا۔لیکن خدا نے آپ کو ان فتنوں کے متعلق