انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 193

امن کی بناء پڑنی تھی۔اس دن یہ فیصلہ ہونا تھا کہ احمدیت کیا رنگ اختیار کرے گی۔دُنیا عام سوسائٹیوں کا رنگ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کا رنگ۔اس دن اہل دُنیا کی زندگی یا موت کے سوال کا فیصلہ ہونا تھا۔بیشک آج لوگ اس امر کو نہ سمجھیں۔لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرے گا کہ لوگوں کو معلوم ہوجاوے گا کہ یہ مخفی مذہبی لہرہیبت ناک سیاسی لہروں سے زیادہ پاک اثرکرنے والی دُنیا میں نیک اور پُر امن تغیر پیدا کرنے والی ہے۔غرض لوگ جمع ہوئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل بھی تشریف لائے۔آپ کے لئے درمیان مسجد میں ایک جگہ تیار کی گئی تھی مگر آپ نےوہاں کھڑے ہونے سے انکار کردیا۔اورایک طرف جانب شمال اس حصہ مسجد میں کھڑے ہوگئے جسے حضرت مسیح موعودؑ نے خود تعمیر کروایا تھا۔٭ حضرت خلیفہ اوّل کی تقریر پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی اوربتایا کہ خلافت ایک شرعی مسئلہ ہے۔خلافت کے بغیر جماعت ترقی نہیں کرسکتی اور بتایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر ان لوگوں میں سے کوئی شخص مُرتدہوجاوے گا۔تو میں اس کی جگہ ایک جماعت تجھے دوں گا۔پس مجھے تمہاری پرواہ نہیں۔خدا کے فضل سے میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کریگا۔پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کے جوابوں کا ذکر کرکے کہا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام نماز پڑھا دینا یا جناہ یا نکاح پڑھا دینا یا بیعت لے لینا ہے۔یہ جواب دینے والے کی نادانی ہے اور اس نے گستاخی سے کام لیا ہے۔اس کو توبہ کرنی چاہئیے۔ورنہ نقصان اُٹھائیں گے۔دورانِ تقریر میں آپ نے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے بہت دُکھ دیا ہے اور منصبِ خلافت کی ہتک کی ہے۔اسی لئے میں آج اس حصہ مسجد میں کھڑا نہیں ہوا۔جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے۔بلکہ اس حصہ مسجد میں کھڑا ہوا ہوں جو مسیح موعود علیہ السلام کا بنایا ہوا ہے۔تقریر کا اثر جوں جوں آپ تقریر کرتے جاتے تھے۔سوائے چند سرغنوں کے باقیوں کے سینے کھلتے جاتے تھے اورتھوڑی ہی دیر میں جو لوگ نورالدین کو اس کے منصب سے ٭ اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ مسجد مبارک ابتداءً بہت چھوٹی تھی۔دعویٰ سے پہلے حضرت مسیح موعود نے صرف علیحدہ بیٹھ کر عبادت کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے ملحق ایک گلی پر چھت ڈال کر اسے تعمیر کیا تھا۔کوئی تیس آدمی اس میں نماز پڑھ سکتے تھے۔جب دعویٰ کے بعد لوگ ہجرت کرکے یہاں آنے لگے اورجماعت میں ترقی ہوئی۔تو جماعت کے چندہ سے اس مسجد کو بڑھایا گیا۔اورپُرانےحصہ مسجد کا نقشہ حسبِ ذیل ہے۔