انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 192

مسیح موعودؑ نے فیصلہ کردیا ہے کہ میرے بعد انجمن جانشین ہوگی اوربھی زیادہ جوش سے بھرگئے۔مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ خشیۃ اللہ کا نزول دلوں پر کیوں ہو رہا ہے اور غیب سے کیا ظاہر ہونے والا ہے آخر جلسہ کا وقت قریب آیا اورلوگوں کو مسجد مبارک (یعنی وہ مسجد جو حضرت مسیح موعودؑ کے گھر کے ساتھ ہے اور جس میں حضرت مسیح موعود ؑ پنج وقتہ نمازیں ادا فرماتے تھے) کی چھت پر جمع ہونے کا حکم دیا گیا اس وقت ڈاکٹڑ مرزا یعقوب بیگ صاحب میرے پاس آئے اور مجھے کہا کہ آپ مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) سے جاکر کہیں کہ اب فتنہ کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔کیونکہ سب لوگوں کو بتادیا گیا ہے کہ انجمن ہی حضرت مسیح موعود ؑ کی جانشین ہے۔مَیں نےتوان کے اس کلام کی وقعت کو سمجھ کر خاموشی ہی مناسب سمجھی۔مَیں بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔جاتے ہی ڈاکٹر صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح سے عرض کی کہ مبارک ہو۔سب لوگوں کو سمجھادیا گیا ہے کہ انجمن ہی جانشین ہے۔اس بات کو سُن کر آپ نے فرمایا۔کون سی انجمن ؟جس انجمن کو تم جانشیںقرار دیتے ہو وہ تو خود بموجب قواعد کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اس فقرہ کو سُن کر شاید پہلی دفعہ خواجہ صاحب کی جماعت کو معلوم ہوا کہ معاملہ ویسا آسان نہیں جیسا کہ ہم سمجھے تھے کیونکہ گو ہر ایک خطرہ کو سوچ کر پہلے سے ہی لوگوں کو اس امر کے لئے تیار کرلیا گیا تھا کہ اگر حضرت خلیفہ اوّل بھی ان کی رائے کو تسلیم نہ کریں تو ان کا مقابلہ کیاجائے۔عموماً یہ لوگ یہی خیال کرتے تھے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ان کے خیالات کی تائید کریں گے اورانہی کی رائے کے مطابق فیصلہ دیں گے۔چنانچہ ان میں سے بعض جو حضرت خلیفۃ المسیح کی نیکی کے قائل تھے عام طور پر کہتے تھے کہ خدا کا شکر ہے۔کہ ایسے بے نفس آدمی کے وقت میں یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ورنہاگران کے بعد ہوتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہوجاتا۔نہایت اہم اور قابل یادگار مجمع جب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت خلیفۃ المسیح مسجد کی طرف تشریف لے گئے قریباً دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع تھا جس میں اکثر احمدیہ جماعتوں کے قائم مقام تھے۔بیشک ایک ناواقف کی نظر میں وہ دو اڑھائی سو آدمی کا مجمع جو بِلا فرش زمین پر بیٹھا تھا ایک معمولی بلکہ شاید حقیر نظارہ ہو۔مگر ان لوگوں کے دل ایمان سے پُر تھے اورخدا کے وعدہ پر ان کو یقین تھا۔وہ اس مجلس کو احمدیت کی ترقی کا فیصلہ کرنے والی مجلس خیال کرتے تھے اور اس وجہ سے دنیا کی ترقی اوراس کے امن کا فیصلہ اس کے فیصلہ پر منحصر خیال کرتے تھے۔ظاہر بین نگاہیں ان دنوں پیرس میں بیٹھنے والی پِیس کانفرنس کی اہمیّت اورشان سے حیرت میں ہیں۔مگر درحقیقت اپنی شان میں بہت بڑھی ہوئی وہ مجلس تھی کہ جس کے فیصلہ پر دُنیا کے