انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 178

تھا۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ وفد کے ممبروں میں سے کوئی ایسا موزوں آدمی نہیں ہے جو کہ اس موقع پر بول سکے اس لئے اجازت دی جائے کہ سیّد مدثر شاہ ان کی طرف سے بولیں۔انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ ان کے لیکچرار کو تقریر کے لئے اس سے زیادہ وقت دیاجائےجو انہوں نے اپنے جلسے میں ہمارے نمائندے کو دیا تھا۔مَیں نے ان کی دونوں درخواستوں کو منظور کرلیا۔چنانچہ حافظ روشن علی صاحب کی تقریر کے بعد جس کا عنوان ’’نبوت مسیح موعودؑ ‘‘ تھا اجازت دی گئی کہ فریق مخالف کے نمائندہ ایک گھنٹہ تک حاضرین جلسہ کے سامنے جنکی تعداد قریب چھ ہزار احمدیوں کی تھی اورجو ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے تھے اپنے خیالات کاا ظہار کرے۔چنانچہ میر مدچر شاہ صاحب نےایک گھنٹہ تک تقریر کی جب وہ اپنی تقریر کو ختم کرچکے تو ان کے دلائل کو میرا محمد اسحٰق صاحب نے ردّ کیا۔اس واقعہ نے ہمیشہ کے لئے فریق مقابل کی اس شکایت کو دُور کردیا کہ احمدیوں کو ان کے دلائل سننے سے روکا جاتا ہے۔الحمداللہ کو فریق مقابل کے خیالات سننے سے احمدیوں کا ایمان اپنے عقائد کے متعلق اوربھی مضبوط ہوگیا۔اوران پر فریق مقابل کے خیالات کی کمزوریاں اور غلطیاں کھل گئیں۔میر محمد اسحٰق صاحب کی تقریر سے اس قرآنی صداقت کی ایک اور مثال قائم ہوگئی کہ سچ کے آگے جھُوٹ نہیں ٹھہر سکتا۔اب میں یکے بعد دیگرے تمام ان باتوں کا جو مولوی محمد علی صاحب کی کتاب ’’اختلافاتِ سلسلہ‘‘ میں قابلِ ردّ کرچکا ہوں اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ جو شخص بھی ان دلائل کو منصفانہ نظر سے دیکھے گا اسے پورا یقین ہوجائے گا کہ مولوی محمد علی صاحب اپنی کتاب ’’دی سپلٹ ‘‘ میں متواتر غلط بیانیوں سے کام لیتے چلے گئے۔اوراختلافات سلسلہ کو بیان کرتے وقت انہوں نے کم سے کم چوبیس جگہوں پر جان بوجھ کر اور خدا کے خوف اور قہر سے الگ ہوکر خلاف بیانی سے کام لیا ہے۔وہ لوگ جو درو دراز ممالک میں رہتے ہیں اور سلسلہ کے مرکز سے پیوستگی کے ان کے پاس سامان نہیں ہیں اور اس کے حالات سے پوری طرح واقف نہیں ہیں وہ اس طرح واقعات کی حقیقت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔جس طرح کہ وہ لوگ جنہوں نے کہ اِن واقعات کو بچشم خود دیکھا ہے۔تا ہم وہ زبردست شہادتیں جو اس کتاب میں جمع کردی گئی ہیں وہ اُمید ہے کہ ان کو بھی آسانی سے صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے قابل کردیں گی اور اس مقولہ کے مطابق کہ دیک میں سے ایک چاول ہی کافی ہوتا ہے۔وہ پیچدار اور صداقت سے دور باتیں جن کا اوپر ذکر ہوچکا ہے۔اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہوں گی کہ وہ شخص جس نے ان کو پبلک کے سامنے پیش کرنے کی دلیری کی ہے کس دل و دماغ کا انسان ہے۔جن باتوں کے متعلق مَیں