انوارالعلوم (جلد 6) — Page 179
نےتحریری ثبوت پیش کردیا ہے۔ان باتوں کے متعلق کسی اور شہادت کی ضرورت ہی نہیں۔مگر جو امور ایسے ہیں کہ جن کے متعلق کوئی تحریری شہادت پیش نہیں کی جاسکتی صرف زبانی شہادت سے ان کا فیصلہ کیاجاسکتا ہے۔ان کے متعلق میں مولوی محمد علی صاحب کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر وہ ان کے متعلق میرےبیان کو جھوٹا قرار دیتے ہیں تو قسم کھا کر بیان کریں کہ مَیں نے ان کے بیان کرنے میں جھوٹ سے کام لیا ہے۔لیکن مَیں خوب جانتا ہوں کہ مولوی صاحب اس طریق کو کبھی اختیار نہیں کرینگے کیونکہ وہ قسم اور مباہلہ کےذریعہ سےفیصلہ کرنے کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔حالانکہ یہ طریق فیصلہ اسلام کا پسندیدہ بلکہ اسلام کی صداقت کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ اس طریق فیصلہ کو اختیار کرکے وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا کر اپنی ہلاکت کا سامان نہ پیدا کرلیں اور ان کی شامتِ اعمال ان کےپیش نہ آجائے۔وَاٰخِرُ دَعْوٰىنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ