انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 162

کہ مولوی محمد علی صاحب نے ایک مضمون مسئلہ تکفیر کے متعلق لکھا ہے جو وہ حضرت خلیفۃ المسیح کو بروز جمعہ بعد از نماز سنائیں گے۔اور وہ آپ لوگوں سے علیحدگی میں سنائیں گے۔جس پر صاحبزادہ صاحب موصوف نے فرمایا ہم بھی اس وقت حاضر ہوں گے۔مسئلے کا معاملہ ہے ہم ضرور سنیں گے چنانچہ جب جمعہ کا دن آیا۔تو مَیں نے یہ عزم کیا کہ بعد جنماز جمعہ فوراً حضرت خلیفۃ لامسیح کے گھر میں پہنچ جائوں گا چنانچہ جمعہ کی نماز ادا کرتے ہی فوراً میں پہنچا جب مَیں صحن خانہ میں داخل ہوا تو حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے کمرے سے حسبِ ذیل اشخاص نکلے۔(۱) مولوی محمد علی(۲) مرزا یعقوب بیگ(۳) شیخ رحمت اللہ (۴) ڈاکٹر محمد حسین شاہ۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ میں کاغذ کے اوراق لپٹے ہوئے تھے۔مجھ سے دریافت کیا کہ کیا نماز جمعہ ہوچکی ہے؟ مَیں نے کہا ہاں اس وقت میرے دل میں یہ یقین ہوا کہ انہوں نے علیحدہ مضمون سنانے کی خاطر نماز جمعہ ترک کی ہے۔پھر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے۔جو میرے داخل ہونے سے پہلے وہاں سے جاچ کے تھے‘‘۔’’پھر مَیں اس امر کےدریافت کرنے کیلئے خلیفہ رشیدالدین صاحب کے مکان پر گیا اوران سے دریافت کیا کہ آپ لوگ جمعہ میں شامل نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفۃ المسیح کو چونکہ غسل دینا تھا۔اس واسطے ڈاکٹر وہاں مشغول رہے۔مَیں نے کہا مولوی محمد علی صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب تو ڈاکٹر نہیں۔یہ کیوں جمعہ میں حاضر نہ ہوئے انہوں نے کہا وہ مضمون سنانے کی خاطر وہاں ٹھہرے رہے مَیں نے کہا پھر مضمون انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کو سُنایا ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔دو تین دفعہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت عرض کی کہ مضمون سنائوں۔آپ نے فرمایا کہ نہیں۔اب مَیں آرام کروں گا۔سو جس غرض کے لئے انہوں نے نماز جمعہ ترک کی تھی اس میں ناکام رہے۔اس کے بعد مَیں صاحبزادہ صاحب کے پاس آیا۔اوران کو یہ قصہ سنایا۔پھر میں حضرت خلیفۃ المسیح کے مکان میں آیا اور وہاں یہ قصد کرکے بیٹھا کہ یہاں سے نہ اُٹھوں گا جب تک کہ مولوی محمد علی صاحب مضمون سنا نہ لیں یا مایوس ہوکر اپنے مکان پر چلے نہ جائیں۔مولوی محمد علی صاحب مولوی صدر الدین کے مکان میں ٹھہرےکہ یہ مولوی صاحب کے پاس سے کب اُٹھتا ہے اور مَیں بیٹھا کہ وہ کب مضمون سناتے ہیں۔آخر مغرب کا وقت ہوگیا تو مولوی محمد علی باہر کوٹھی چلے گئے۔جس میں وہ رہتے تھے اور مَیں نماز مغرب کے لئے آیا تو بعد از نماز مغرب مَیں نے حضرت صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ جمعہ کا دن ختم ہوگیا لیکن وہ اپنا مضمون سنا نہیں سکے۔آپ نے فرمایا کہ جب وہ اتنا پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اطلاع ہی