انوارالعلوم (جلد 6) — Page 141
فرماتے رہے ہیں۔‘‘ (الحق مؤرخہ ۳۰ ؍مئی و ۷ جون ۱۹۱۳ء جلد ۴ نمبر ۲۲،۲۳ صفحہ ۱۴) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ علاوہ ظہیر کے عقائد کو قابلِ نفرت اور کعبہ سے ترکستان کی طرف لے جانے والے سمجھنے کے جماعت نے اگر ان کے متعلق کوئی کاروائی کی تو یہی کہ ان کو حقیر خیال کرکے ان کی طرف توجہ ہی نہ کی جاوے۔اوریہی طریقِ عمل اس وقت تک اختیار کیا جارہا ہے۔تاریخ اختلاف سلسلہ کا امر چہارم مولوی محمد احسن کے مضامین زمانہ قبل از اختلاف میں جزوی نبوت کا لفظ تاریخ اختلاف کے متعلق چوتھی قابل توجہ بات یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب تحریرکرتے ہیں کہ مولوی سیّد محمد احسن صاحب نے مباحثہ رام پور کی رپورٹ میں یہ ہیڈنگ دے کر ’’بحث متعلق نبوت جزویہ تابع نبوت کا ملہ‘‘ یہ فقرہ لکھا ہے کہ رسول کریم سلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ایک شخص کو جزوی نبوت اسلام کی تائید کے لئے مل سکتی ہے‘‘۔اسی طرح اس عالم بوڑھے نے تشحیذ الاذہان میں جس کے ایڈیٹر ایم محمود تھے۔ایک مضمون جس کا عنوان محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروان میں نبوت تھا۔لکھا۔جس میں اس نے لکھا تھا کہ ااس اُمّت میں صرف نبوت جزویہ مل سکتی ہے۔مولوی صاحب کی اس تحریر سے یہ مراد ہے کہ حضرت مسیح موعودؑکے بڑے بڑے اصحاب کا یہی مذہب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمن کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے۔صرف جزوی نبوت کا دروازہ کُھلا ہے۔دوسرے یہ کہ خود میرے ایڈیٹر ی میں جو رسالہ نکلتا تھا۔اس میں مولوی سیّد محمد احسن صاحب کا مضمون نبوت جزویہ کے متعلق شائع ہوا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ یا تو مَیں بھی اس وقت یہ عقیدہ رکھتا تھا یا حضرت خلیفہ اوّل کے خوف سے اس کا اظہار نہیں کرسکتا تھا مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب جو کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔وہ ان امور سے ثابت نہیں ہوتا۔کیونکہ اوّل تو مولوی سید محمد احسن صاحب کا کوئی قول ہم پر حُجت نہیں۔آپ کے قول کو وہی درجہ دیا جاسکتا ہے۔جو علماء کے اقوال کو دیا جاتا ہے اور تشحیذ الاذہان میں آپ کے مضمون کا شائع ہونا بھی آپ کے مضمون کو کوئی خاص نوعیت نہیں دے دیتا۔کیونکہ یہ مضمون اکتوبر ۱۹۱۳ء میں شائع ہوا ہے اور مَیں تشحیذ الاذہان کے کام سے دو سال قبل سے فارغ ہوچکا تھا۔اس وقت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل میں رسالہ کے ایڈیٹر تھے۔اورمیرا نام رسالہ پر لکھنے کے لئے