انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 142

انجمن تشحیذ الاذہان اس لئے مُصر تھی کہ اس سے لوگوں میں رسالہ کی طرف کشش رہے گی۔کیونکہ اس کے اجراء کے وقت سے میں ہی اس کا ایڈیٹر رہا تھا۔پس اس وقت رسالہ میں کسی مضمون کا چھپنا مجھ پر حُجّت نہیں۔کیونکہ مَیں اس وقت نہ رسالہ سے بہ حیثیت ایڈیٹر کوئی تعلق رکھتا تھا نہ اس کے مضامین یا اس کے پروف مجھے دکھائے جاتے تھے،۔اوراگر مولو ی صاحب رسالہ پر صرف میرا نام ہونے ریویو آف ریلجنز میں شائع ہوا ہے اس کا ذمہ دار ہونا پڑے گا۔مولوی سید محمد احسن صاحب کا نبوت مسیح موعودؑ کو جزوی قرار دینا مولوی محمد علی صاحب کے مفید مطلب نہیں مولوی سید محمد احسن صاحب کے مضامین کے متعلق میں اس قدر اور بھی بتاد ینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کو اگر دیکھا جاوے۔تو ان کے مضامین سے حضرت مسیح موعودؑ کی وہی نبوت ثابت ہوتی ہے جو ہمارے عقیدہ میں حضرت مسیح موعودؑ کو حاصل تھی۔اور اصل غرض نفس مطلب سے ہی ہوتی ہے،الفاظ کچھ تغیر پیدا نہیں کرسکتے۔مولوی محمد احسن صاحب اپنے مضمون مندرجہ تشحیذ الاذہان میں بے شک تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی نبوت جزوی نبوت ہی تھی۔مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ حضرت موسٰی کے بعد جس قدر انبیاء بنی اسرائیل میں آئے ہیں۔ان کی نبوت بھی جزوی نبوت ہی تھی۔چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں:- ’’پس مبشرات کی پیشگوئیاں واسطے تائید اسلام کے نبوت کے ہی ذریعہ سے دی جاویں گی اور یہی نبوت غیر تشریعی ہے یا نبوت جزوی…حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جتنے انبیاء گزرے۔وہ تمام اس نبوت مبشرات کے ساتھ ممتاز کئے گئے۔کیونکہ نبوت احکام کی بنی اسرائیل میں تورات پر ختم ہوگئی تھی۔‘‘ (تشحیذ الاذہان اکتوبر ۱۹۱۳؁ءصفحہ ۵۰) ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ مولوی سیّد محمد احسن صاحب کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کہ لَمْ یَبْقَ مِنَ النَّبُوَّۃِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ (صحیح بخاری کتاب التعبیر باب المبشرات ) میں جن مبشرات کا عودہ اس اُمّت کے لئے دیا گیا ہے۔اسی کا نام نبوت غیر تشریعی یا جزوی نبوت ہے اور یہ کہ اسی قسم کی نبوت حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے نبیوں کو دی گئی تھی۔اور یہی ہمارا عقیدہ ہے اس سے ایک شوشہ زیادہ کرنا ہم کفر سمجھتے ہیں۔بلکہ ہم تو یہ شرط بھی لگانا ضروری سمجھتے ہیں کہ حضرت