انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 129

اور عبداللہ تیماپوری دو اشخاص کی طرف سے کچھ ٹریکٹ شائع ہوئے تھے۔چونکہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص حکم پاکر جماعت کے امام ہونے کے مدعی تھے۔اوران کے ایسے رسائل وا شتہارات سے لوگوں کے ابتلاء میں پڑجانے کا خطرہ تھا اس لئے حضرت خلیفہ اوّل کو ان کے خلاف اپنی ایک تقریر میں اعلان کرنا پڑا مگر آپ نے اس اعلان کے عام الفاظ رکھے اور صرف عبداللہ تیماپوری کا ذکر نام لے کر کیا ہے۔اس اعلان کے الفاظ یہ ہیں:- ’’پھر بعض نوجوان ہیں۔وہ جھٹ تصنیف کردیتے ہیں۔حالانکہ ان میں وہ فہم و فراست نہیں ہوتی جو ایک کتاب کے لکھنے والے میں ہونی چاہئے۔محض خیالات سے کچھ نہیں بنتا۔جب تک سچّے علوم سے واقفیت نہ ہو۔اور پھر ایسی تصنیفیںایک تفرقہ کا موجب ہوجاتی ہیں۔پس اگر تم کو مشکلات پڑے ہیں تو خدا تعالیٰ سے توفیق مانگواور دُعائوں سے کام لو۔عبداللہ تیماپوری کا ایک ابتلاءہےوہ رات کو کچھ لکھتا ہے تو شیخ نور احمد کہہ دیتے ہیں کہ اس کو چھاپ دو۔مَیں دوستوں کو چوکس کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے پرہیز کرو۔اس قسم کے لوگوں کی ایک جماعت ہےجو ایسے دعوے کرتے پھرتے ہیں۔‘‘ اس اعلان کے شائع ہونے پر بعض احباب مولوی محمد علی صاحب نے یعنی خواجہ کمال الدین صاحب و ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب و ڈاکٹر محمد حسین صاحب وغیر ھم نے یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ یہ اعلان ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور کے متعلق ہے۔ظہیر الدین نے اپنے ایک خط میں حضرت خلیفۃ المسیح کو لکھا کہ آپ نے میری کتاب کے متعلق ایسا اعلان شائع کیا ہے۔جس پر آپ نے اسے تحریر فرمایا کہ وہ اعلان آپ کی کتاب کے متعلق نہیں۔بلکہ مولوی یار محمد صاحب وعبداللہ تیماپوری کے اشتہارات کے متعلق ہے۔چنانچہ ظہیر الدین اپنے خط بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل مؤرخہ ۲۲ ؍جون ۱۹۱۲؁ء میں ان الفاظ میں آپ کے خط کی طرف اشارہ کرتا ہے۔’’نوازش نامہ آپ کو ملا۔جوابا ً عرض ہے کہ اس اعلان سے اگر آپ کا مطلب صرف عبداللہ تیما پوری اور یا ر محمد سے ہی تھا۔تو کیا ہی اچھا ہوتا۔اگر آپ اس اعلان میں ہر دو صاحبوں کے ناموں کو لکھوا دیتے تا کہ لوگوں کو غلط فہمی کا موقع نہ ملتا‘‘ اس خط کے جواب میں حضرت خلیفہ اوّل اسے تحریر فرماتے ہیں:- ’’تم نے لکھا ہے کہ میری طرف اس میں اشارہ ہے۔مَیں نے لکھا ہے کہ اس میں آپ کی نسبت اشارہ نہیں ہے۔حالانکہ مَیں اپنی طرز میں مناسب نہیں سمجھتا تھا۔مگر جن کی طرف اشارہ تھا۔اس کا نام بھی آپ کی طرف لکھ دیا۔مگر پھر بھی آپ نے بڑی صفائی سے لکھ دیا