انوارالعلوم (جلد 6) — Page 130
کہ نور الدین کے عقائد سے مَیں مخالفت رکھتا ہوں‘‘۔(الحکم ۱۴ اکتوبر ۱۹۱۴ءصفحہ ۷) (مکتوب حضرت خلیفہ اوّل۔۱۱؍جولائی ۱۹۱۲ء ) یہ خط و کتابت الحکم میں جو سلسلہ کا سب سے پہلا اخبار ہے۔۱۴؍اکتوبر ۱۹۱۲ء کے پرچہ میں حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں ہی شائع ہوچکی ہے۔اور اسی کے صفحات ۶،۷ سے یہ حوالہ جات نقل کئے گئے ہیں۔ان حوالہ جات کے پڑھنےکے بعد ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے اپنے بیان میں کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر الدین کی کتاب کو پڑھ کرنا پسند کیا۔اوراس سے خط و کتابت شروع کی۔صداقت سے کام نہیں لیا۔کیونکہ جیسا کہ اس خط وکتابت سے جو آپ کے اور ظہیر الدین کے درمیان ہوئی ہے۔ثابت ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح اس امر کی تردید کرتے ہیں کہ آپ نے ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کے ظہور کے خلاف اعلان کیا تھا۔اگر ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور پڑھ کر اور اسے ناپسند کرکے اس سے خط وکتابت شروع کی گئی تھی۔تو پھر ناراضگی ثابت کرنے کے لئے کسی اعلان کی طرف ظہیر الدین کو اشارہ کرنے کی کیا ضرورت تھی حضرت خلیفہ اول کا خط ہی اس امرکی کانی شہادت ہوسکتا تھا کہ آپ نے اس کتاب کو ناپسند کیا ہے۔مگر ظہیر الدین بجائے اس خط کی طرف اشارہ کرنے کے حضرت خلیفہ اول کو لکھتا ہے کہ آپ نے میری کتاب کے خلاف ایک اعلان کیا ہے۔اورآپ اس کی اس بات کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ اعلان تو چند اور لوگوں کے اشتہارات کے متعلق تھا۔اوراپنی بات کے ثبوت میں خلاف اپنی عادت کے ان دو اشخاص کا نام بھی لکھ دیتے ہیں۔جن کے خلاف وہ اعلان تھا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل نے ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یا اس کے ہم معنی کوئی ٹریکٹ پڑھ کر ہرگز اسے ناپسند نہیں کیا۔بلکہ ظہیر الدین کی شکایت کرتے ہیں کہ باوجود آپ کی اس تحریر کے کیوں اس نے بڑی صفائی سےلکھ دیا کہ ’’نور الدین کے عقائد سےمیں مخالفت رکھتا ہوں‘‘۔اگر فی الواقع ظہیر الدین کی کتاب نبی اللہ کا ظہور یا اس کے ہم معنے کوئی رسالہ پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیرا لدین سے خط و کتابت شروع کی تھی۔تو پھر اس شبہ کی تردید کی کیا ضرورت تھی۔کہ حضرت خلیفہ المسیح کے اعلان میں ظہیر کی طرف اشارہ ہے۔اور کیا وجہ تھی کہ اس اعلان میں ظہیر کو شامل نہ کیا گیا۔اورپھر کیا سبب تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح تحریرفرماتے ہیں کہ جب مَیں نے تم کو بتا دیا ہے۔کہ تم اس اعلان کا مصداق نہیں ہو۔پھر بھی تم لکھتے ہو کہ تم سے مجھے اختلافِ عقائد ہے۔اگر ظہیر کی کتاب کو پڑھ کر حضرت خلیفہ المسیح نے ناپسند کیا تھا تو اس اعلان میں خواہ اس کا ذکر ہو تا یا نہ ہوتا۔بہر حال اس کے عقائد سےآپ کو اختلاف رکھنا ثابت تھا۔مگر آپ اس