انوارالعلوم (جلد 6) — Page 53
کیا آپ کو خیال ہے کہ اب بھی جبکہ ہم سات سو تک پہنچ گئے ہیں دشمن کے حملوں سے ہلاک ہوجائیں گے لیکن آج دیکھ لو کہ ساتھ کروڑ آدمی صرف ہندوستان میں ہے، لیکن ان کے دل اسقدر ہل رہے ہیں جس طرح تیز ہوا سے پتے ہلتے ہیں۔مگر مسلمان جب ساتھ سو تھے وہ اُٹھے اور بجلی کی طرح کُوندے اور تمام دنیا پر غالب ہوگئے۔جو فوجیں لیکر ان کے مقابلہ میں اُٹھاوہ پاش پاش ہوگیا۔فرانس کا ایک مصنف لکھتا ہے کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اور کچھ کہو۔مگر اس کی ایک بات ضرور حیرت میں ڈالنے والی ہے۔ایک کچّی مسجد میں چند ننگے بھوکے اس کے ارد گرد بیٹھے ہیں مسجد ایسی ہے کہ اس پر چھت بھی اچھی نہیں۔بارش ہوتی ہے تو پانی ٹپکتا ہے اور فرش پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔لیکن وہ مشورے یہ کر رہے کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کو فتح کرینگے اور اسی کے مطابق وہ کرکے بھی دکھا دیتے ہیں۔یہ کیا بات ہے؟ تو اگر آج مسلمان خدا کے پیارے ہیں خدا کے محبوب ہیں تو کیوں ذلیل ہیں۔کیا خدا کے پیارے ذلیل ہوا کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ان میں ان باتوں کا فقدان ہے جو خدا کا پیار بناتی ہیں۔اس لئے یہ ذلیل درسوا ہورہے ہیں اور ان کا کوئی معاملہ ٹھیک نہیں۔ان کے اعمال میں خلوص و درستی نہیں اور خدا تعالیٰ کا جواب سے معاملہ ہے وہ بتا رہا ہے کہ یہ اب بگڑ چکے ہیں اور وقت ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی مردِ خدا مبعوث ہو۔اب سوال ہوتا ہے کہ ان کی حالت تو واقعی قابل اصلاح ہے وہ آدمی کہاں ہے۔اگر خدا نے ان کے لئے کوئی چارہ کار تجویز کیا ہے تو کیا؟ اگر باوجود اسلام کی اس گری ہوئی حالت کے خدا نے ان کے لئے کوئی سامان نہیں کیا تو معلوم ہوا یہ دعویٰ درست نہیں کہ اسلام سچا مذہب ہے اور اگر اسلام سچّا ہے تو ضروری ہے کہ اس وقت اسلام کے پیروئوں کی حالت کو سدھارنے کے لئے اوران کو اسلام کی حقیقت پر قائم کرنے کے لئے کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث فرمایا جائے۔اعتراضات کے جواب اب میں ان مولویوں کے ان چند اعتراضات کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو مجھ تک پہنچے ہیں اور مَیں مختصراًان کے جواب اس وقت دیتا ہوں۔نبی کی لاش کا صحیح و سلامت رہنا پہلا اعتراض جو قادیان میں تو نہیں بیان کیا گیا۔مگر راستہ بھر میں اس کا تذکرہ ہوتا آتا تھا یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب سچّے ہیں تو ان کی قبر (نعوذ باللہ من ذٰلک) کھود کر دکھائی جائے۔کیونکہ نبی کی علامت یہ ہے کہ اس کی لاش