انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 54

کو مٹی نہیں کھاتی۔مَیں پوچھتا ہوں کہ کیا قرآن کریم میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔اگر نہیں تو پھر قرآن کریم کے سوا ہر ایک خبر محتاج تصدیق کی ہے۔بڑی سے بری حدیث اپنی صڈْٓت کے ثبوت کی محتاج ہے۔پس چونکہ قبر کا کھودنا ایک نشائستہ فعل ہے۔اور اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کی ضرورت یقینی دلائل سے ثابت نہ ہو۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ پہلے اس بیان کی صداقت ثابت کر کے دکھائو۔حدیث صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔کیونکہ حدیثیں لوگوں نے اپن پاس سے بھی بنالی ہیں پس پہلے خدا کے فعل سے اس حدیث کی صداقت ثابت کرو۔پھر ہم سے یہ مطالبہ کرو پہلے کم سے کم تین نبیوں کی قبریں کھود کر ہمیں دکھائو۔کہ ان کی لاشیں ب تک صحیح سلامت ہیں۔پھر اس کے بعد ہم بھی اس معیار پر مرزا صاحب کی صداقت ثابت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں گے، لیکن جب تک یہ لوگ اس حدیث کی صداقت کو عملی طور پر ثابت کرکے نہیں دکھا سکتے ،ہم سے اس قسم کا مطالبہ کرنا بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ نعوذ باللہ مرزا صاحب جھوٹ بولتے تھے۔لیکن ان بے خبر معترضوں کو معلوم نہیں کہ وہ حضرت مرزا صاحب کو جُھوٹا کہہ کر ان کی صداقت ثابت کر رہے ہیں۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر نبی کو جُھوٹا کہا گیا۔کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں کہا گیا۔کیا ان کے متعلق یہ نہیں کہا گیا کہ ان کہ فلاں پیشگوئی جھوٹی نکلی اور فلاں پیشگوئی کذب ثابت ہوئی۔پس جھوٹ سے کونسا نبی بری ہے۔کیا ابراہیم علیہ السالم پر ان کی کتابوں میں جھوٹ کا الزام نہیں۔کیا ان کے نزدیک ابراہی نے تن جھوت نہیں بولے۔ھدیثوں اور انکی تفسیروں میں ان کے تین جھوٹ لکھے ہیں کہتے ہیں بیوی کو بہن کہا جھوٹ بولا۔موٹے تازے تھے کہ بیمار ہوں جھوٹ بولا۔بتوں ک خود توڑا اور جھوٹ بولکر دوسرے بُت پر الزام لگایا۔صحیح احادیث میں اسبارے میں جو کچھ ہے ہم اس کی تاویل کرتے ہیں اور باقی تفسیروں کے بیان کوردّ کرتے ہیں۔لیکن یہ لوگ کیا جواب دے سکتے ہیں۔کیونکہ ان کتب میں جن کو یہ وحی من السماء کی طرح مانتے ہیں حضرت ابراہیم کے جھوٹ لکھے گئے ہیں۔پس جب ایک شخص ان کے نزدیک تین جھوٹ بول کر نبی ہوسکتا ہے اور بہت بڑا نبی ہوسکا ہے تو حضرت مرزا صاحب نے بھی اگر بفرض محال جھوٹ بولا تو اس سے وہ جھوٹے کیسے ثابت ہوسکتے ہیں۔بلکہ وہ تو ابراہیمؑکے مثیل ثابت ہونگے جیسا کہ ان کا دعویٰ بھی ہے۔پس حضرت مرزا صاحب پر جھوٹ کا الزام لگانے والے ابراہیمؑاوردیگر نبیوں کی نبوت کو پہلے رد کریں۔ان پر جو الزام ان کی تفسیروں میں موجود ہیں۔انکو دُور کرنے کیلئے اپنی تفسیریں پھاڑ دیں پھر حضرت مرزا صاحب پر یہ اعتراض کریں۔جب تک یہ تفسیر یں اور