انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 39

حملہ کرے لیکن جب کوئی اس پر حملہ آور ہو تو وہ شریعت اخلاق اور قانون کی طرف سے مجاز ہے کہ اس حملہ کے دفاع کے لئے ہر ممکن کوشش کرے۔بلکہ بعض اوقات اگر وہ ایسا نہ کرےتو وہ ایمان سے باہر ہوجائیگا۔ہم ہر ممکن طریق سے امن کے قیام کے حامی ہیں پس ہم نے جو کچھ کیا ان حالات کے ماتحت کیا۔یہ میں نے اس لئے بتایا ہے کہ کسی کو حیرت نہ ہو کہ یہ کیا انتظام تھا ورنہ ہم نے نہ کبھی فساد کیا نہ فساد کرنا چاہتے ہیں نہ کرینگے۔یہاں ہر قوم کا جلسہ ہوتا ہے مگر کبھی کوئی فساد نہیں ہوا۔حالانکہ ابھی پچھلے دنوں میں آریوں کا جلسلہ ہوا وران کے بعض لیکچراروں نے اسلام پر حملہ کیا اور گالیاں دیں اور ہمارے بعض لوگوں نے بھی سُنا مگر وہ خاموش رہے۔حالانکہ مَیں نے ان کو کہا کہ یہ درست نہیں کہ جہاں کوئی گالیاں دے ہم اس کی گالیاں سُنتے رہیں یہ بہتر ہوتا کہ وہ وہاں سے ااجاتے۔یہ ہماری ہی جماعت ہے جو گالیاں سننے کے باوجود صبر سے کام لیتی ہے۔ورنہ اگر باہر ایسا واقعہ ہوتا تو کشتوں کے پشتے لگ جاتے۔ہم دین کیلئے جان دینے سے پرہیز نہیں کرتے ابھی ہمارے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بی اے بیرسٹر لاہور سے آرہے تھے تو ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو۔انہوں نے بتایا کہ قادیان جارہا ہوں۔اس نے کہا کہ آپ نہ جائیں وہاں فساد ہوگا۔چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ ہماری جماعت فساد نہیں کرے گی۔اُس نے کہا کون روکے گا انہوں نےجواب دیا کہ ہمارا خلیفہ ہے جو فساد کو روک دیگا۔ہمارے مخالفوں کو معلوم نہیں کہ اگر ہم دین کے کام کے لئے جان دینے کو کہیں تو ہماری جماعت کے لوگوں کو جان دینے سے بھی عذر نہیں ہوسکتا اور یہ محض ظنی بات نہیں بلکہ واقعہ ہے۔برطانیہ کی کابل سے جنگ ہوئی ہماری نزدیک چونکہ حکومت برطانیہ حق پر تھی اور اس وقت تک کابل کی حکومت ہمارے مذہب کو جبراً مٹانا چاہتی تھی اس لئے ہمار ابرطانیہ کی مدد کرنا مذہبی فرض تھا۔مَیں نے اپنی جماعت میں اس جنگ میں شامل ہونے کے لئے اعلان کیا اور باوجود اس کے کہ ہمارے بہت سے لوگ جرمن کی جنگ کے وقت بھرتی ہوچکے تھے پھر بھی ایک قلیل عرصہ میں پندرہ سو درخواستیں آگئیں۔