انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 40

پس ان لوگوں نے گالیوں کو سُنا اوربرداشت کیا۔کیونکہ میرا حکم تھا کہ فساد سے بچو۔ورنہ بعض چوشیلے ایسے تھے جو گھر بیٹھے روایتاً واقعات سُنکر جوش میں آرہے تھے۔ان کو فساد سے روکنے والی بات محض شریعت اور میرا حکم تھا۔ہم نے اپنی حفاظت کا سامان خود کیا اگر ہمارے آدمی ان کے جلسہ میں جاتے اور ان کی بد زبانی سُنتے اوران کی طرف سے فساد ہوتا تو ہمارے حق میں کسی نے گواہی نہیں دینی تھی۔عدالت میں لوگ صریحاً جھوٹ بول دیتے۔کیونکہ یہ قوم ہماری دشمن ہے۔دُنیا آج منافقت چاہتی ہے اور ہم میں منافقت نہیں اگر فساد ہوتا تو سوائے شاذ کے کوئی ہماراگواہ نہ ہوتا اور گورنمنٹ کے حکام تک بھی ہمیں کو الزام دیتے ہیں یہ ہماری احتیاط کا نتیجہ نکلا کہ دشمن اپنے جن بد ارادوں سے آتا تھا وہ اس کو اپنے ساتھ ہی لے گیا اور کوئی قسم کا فساد نہیں ہوا۔فساد کے نہ ہونے اور دشمن کا اپنےبد ارادوں میں ناکام رہنے میں گورنمنٹ کے حکام کی موجودگی کا بھی دخل تھا۔مگر انہوں نے عملی طور پر اس کام میں کوئی حصہ نہیں لیا اور اس میں روک زیادہ تر ہماری احتیاط ہی تھی اور اسی طرح ہمارا یہ حکم کہ ہمارے آدمی بلا اجازت جلسہ میں نہ جاویں۔انکو ہم پر غصہ ترکوں کی خلافت کے باعث ہے اب سوال ہوتا ہے کہ انکو ہم پر خفگی کی وجہ کیا ہے۔جیسا کہ انہوں نے اپنے اشتہاروں میں بھی ظاہر کیا ہے ان کو ہم سے خلافت کے بارے میں اختلاف ہے اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی خلافت کے بارے میں مدد نہیں کرتے مگر ان کا یہ اعتراض کم فہمی پر مبنی ہے۔کیونکہ کسی کو مجبور کرنا کہ وہ ان کا ہم خیال ہوجائے ایک بہت ہی بُرا اور گندہ فعل ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ ترکوں کے بادشاہ خلیفۂ رسول اللہ ہیں۔اور برخلاف اس کے ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلمان خراب ہوگئے ان کی اصلاح کے لئے محمد رسول اللہ کا ایک غلام مسیح اور مہدی بنا کر مبعوث کیا گیا۔اب خلیفہ وہی ہوسکتا ہے جو مسیح موعود کا غلام ہو۔پس وہ ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔اگر ہم ان کی خاطر اپنے مذہب کو چھپا کر سلطان ترکی کی خلافت کے مسئلہ میں ان کے ہم خیال ہونے کا اظہار کریں تو ہم منافق ہونگے اور منافقوں کو اپنے ساتھ ملا کر ان کو کیا نفع ہوگا۔بلکہ ہمارا ملنا ان کے لئے مضر ہوگا کیونکہ اگر ہم ان کے ساتھ اس مسئلہ میں مل جاتے تو ہندوستان میں منافقت بڑھ جاتی۔اور اس زمانہ میں جبکہ پہلے ہی نفاق چاروں طرف پھیلا ہوا ہے اور ضرورت ہے کہ اس کو مٹا کر تقویٰ