انوارالعلوم (جلد 6) — Page 486
یہ وہ شخص نہیں جس نے کسی اعلیٰ مدرسہ میں تعلیم نہیں پائی پھر یہ عالم کیونکر ہوگیا؟جس طرح کہ مسیح اوّل کی روحانی باتوں کو سُن کر اس وقت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ کیا یہ یوسف بڑھنی کا بیٹا نہیں؟ اور اس کی ماں مریم ؑنہیں؟ پھر اس نے یہ سب کچھ کہاں سے پایا؟ (متی باب ۱۳۔آیت ۵۵۔۵۶) آپؑ کی طبیعت بچپن سے ہی ادب اور صداقت کی طرف مائل تھی اورپُرانے پرانے لوگ جنہوں نے آپ کا بچپن دیکھا ہے بیان کرتے ہیں کہ جب آپؑ کسی کو جھوٹ بولتے یا لغو باتوں کی طرف مائل ہوتے یا استادوں کی نقلیں لگاتے دیکھتے تو آپؑ اس سے جدا ہوجاتے اور کبھی گناہ کی طرف مائل نہ ہوتے بلکہ ہمیشہ علمی مشغلہ رکھتے۔جب آپ ؑجوان ہوئے تو آپؑ کے والد صاحب نے چاہا کہ آپ کو کسی کام پر لگائیں لیکن آپؑنے اس امر کی طرف توجہ نہ کی اور رات دن دین کی باتوں کی طرف متوجہ رہتے اور لوگوں سے کم ملتے۔کھانا کم کھاتے اوراپناکھاناالگ منگوالیتے اور چند یتیم اور غریب لوگوں کو اکھٹا کرکے ان میں تقسیم کردیتے اوربہت تھوڑا سا کھانا ان کے ساتھ بانٹ کر کھاتے اورجب ان کے والد چاہتے کہ آپ کسی کام پر لگیں تو آپؑ کہتے کہ جس کام پرمَیں نے لگنا تھا لگ گیا ہوں آپ میری فکر نہ کریں مگر آپؑکے والد بعض نہایت افسردگی سے اپنے دوستوں سے زکر کرتے کہ دیکھو یہ میرا بیٹا اپنے بھائیوں کے سہارے پر زندگی بسر کرے گا۔اس کا مجھے بہت دُکھ ہے مگر بعض دفعہ خوش ہوکر یہ بھی کہتے کہ اصل کام تو یہی ہے جس میں یہ لگا ہوا ہے۔اورایسا ہوا کہ ان دنوں میں آپؑ گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جاکر رہائش اختیار کرلی اور گذارہ کے لئے ضلع کی کچہری میں ملاذمت بھی کرلی۔وہاں کی رہائش کے ایاّم میں آپؑ کے لئے آسمان کے دروازے کُھلنے لگے اور خدا کے فرشتے آپ ؑپر نازل ہونے لگے اور آپ ؑکو بہت سی باتیں اللہ تعالیٰ غیب کی بتاتا جو اپنے وقت میں پوری ہوجاتیں جس سے مختلف مذاہب کے لوگ جو آپ سے تعلق رکھتے تھے آپ ؑکی قوتِ قدسیہ کے قائل ہونے لگے اور سب لوگ آپ ؑکی نسبت محسوس کرنے لگے کہ آپؑکی زندگی دُنیا کے لئے عجیب ہوگی۔اور ایسا ہوا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے کئی قسم کی کرامتیں دکھانی شروع کیں جن کو ہندو مسلمان دیکھ کر حیران ہونےلگے اور خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر ان کے ایمان بڑھنے لگے۔ایک دفعہ آپؑ کچھ اور دوستوں سمیت جن میں ہندو بھی تھےاور مسلمان بھی ایک مکان میں سو رہے تھے۔کہ آپ ؑکی آنکھ کھلی اور آپؑ کو ایک آوازسنائی دی جس سے آپؑ نے سمجھا کہ یہ چھت اب گرنے والی ہے آپ نے اپنے ساتھیوں کو جگایا اوران کو یہ بات بتائی مگر انہوں نے اس کو معمولی سمجھا اور چھت