انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 451

بندہ کا درجہ رحمانیت پانا جب خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت انسان کی صفت رحیمیت سے ملتی ہے تو اس میں اور نئی زندگی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ گویا پھر ایک رُوحانی جنم لیتا ہے اور رحمانیت کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے رحمانیت کے معنی ہیں کہ کسی نے کچھ کام نہ بھی کیا ہو تو بھی اس سے نیک سلوک کرنا۔جیسے خدا تعالیٰ نے سورج ،چاند ،زمین ،آسمان ،ہوا ،پانی پیدا کئے ہیں یہ انسان کے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں ہیں بلکہ اگر یہ نہ ہوتے تو انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔بندہ کا تیسرامقام اسی صفت کا حصول ہے اور وہ اس طرح کہ یہ پہلے تو صر ف ان لوگوں سے حُسنِ سلوک کرتا تھا جو اس کا کام کرتے تھے اب یہ کوشش کرتا ہے کہ جن سے اس کو کوئی بھی فائدہ نہیں ان سے بھی نیک سلوک کرےاس صفت کا حصول بھی غریب امیر سب کے لئے ممکن ہے۔قادیان میں ایک مخلص نابینا تھےحافظ معین الدین ان کا نام تھا انہیں اتنا توکّل حاصل تھا کہ کسی کو کم ہی ہوگا۔غریب آدمی تھے۔لنگر خانہ کی روٹی پر ان کا گذارہ تھا اور لوگ انہیں نابینا سمجھ کر کبھی کبھی کچھ مدد کردیتے تھے وہ باوجود نابینا ہونے کے ادھر ادھر پتہ لگاتے رہتے تھے کہ کسی کے گھر فاقہ تو نہیں یا اور کوئی تکلیف تو نہیں؟ اوراگر کوئی تکلیف زدہ انہیں معلوم ہوتا تو اپنی روٹی لے جاکر اسےدےآتے۔یا اگر ان کے پاس پیسے ہوتے تو وہ دے دیتے۔ان کے اس قسم کے بہت سےواقعات مجھے معلوم ہیں۔پس اس صفت کی مشابہت پیدا کرنےکےلئے یہ ضروری نہیں کہ کوئی مالدار ہی ہو غرباء بھی اپنے ذرائع کے مطابق رحمانیت کا جامہ پہن سکتے ہیں اور بغیر کسی پچھلی خدمت کے صلہ یا آئندہ کی اُمید کے نیکی کرسکتے ہیں۔مثلاً ایک شخص مدرسہ میں ملازم ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنے سارے وقت کے پیسے ہی وصول کروں تو یہ رحمانیت نہیں ہوگی۔جیسے مدرسہ والے عام طور پر کرتے ہیں کہ ملازمت کے وقت سے باہر بھی کسی غریب کو مفت نہیں پڑھاسکتے۔رحمانیت یہ ہے کہ جبکہ اپنےوقت کے ایک حصہ میں وہ اپنی معیشت کا سامان پیدا کرلیتے ہیں تو دوسرے وقت میں وہ بعض غرباء کو بغیر صلہ کی امید کے نفع پہنچادیں۔ایک عالم اسی طریق پر اپنے علم کو خرچ کرے۔ایک مالدار اپنا مال خرچ کرے اور یہ سمجھے کہ میں تو ایک سوراخ کے طور پر ہوں جس میں سے خدا ہاتھ ڈال کر دوسرے لوگوں کو دے رہا ہے۔جو لوگ اس مقام پر پہنچ جائیں ان پر خدا کا فیضان پھر تیسری بار نازل ہوتا ہے اور اس دفعہ خدا کی رحمانیت ان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔