انوارالعلوم (جلد 6) — Page 450
ہوتا ہے کہ بعض کارکُن سُست ہوجاتے ہیں۔اگر حوصلہ بڑھایا جائے تو سب کارکن کام کرنے لگ جائیں۔پس جو کام کریں ان کی قدر کرنی چاہئے۔مَیں خصوصاً قادیان کے لوگون کو نصیحت کرتا ہوں کہ کام کرنے والوں کی قدرر کی عادت ڈالو لوگوں کی فکروں،ذمہ داریوں اور مشکلوں کو نہ دیکھنا اور اعتراض کرتے جانا صفت رحیمیت کے خلاف ہے پس رحیمیت کو پیدا کرو اور بھی اور عام بھی کہ جو اچھا کام کرتا ہے اس کی تعریف کردی جائے پھر علاوہ تعریف کے خدا کے ہاں اس کے لئے دُعا مانگو کہ وہ اچھا کام کررہا ہے میرے پاس تو اسے دینے کیلئے کچھ نہیں اسے خدا تُو ہی اپنے پاس سےاسے دے۔غرض مزدور اپنےآقا کا زیادہ کام کرے اورآقا مزدور کو مزدوری سے زیادہ دے۔پھر جو دین کا کام کرنے والے ہیں ان کےکام کی قدر کی جائے اور اس سے بھی بڑھ کر تعریف کی جائے جتنا کہ وہ کام کرتے ہیں۔نیکی پر خوشی کا اظہار کیا جائے تب جاکر صفت رحیمیت سے مناسبت پیدا ہوتی ہے اور خدا سے تشابہ پیدا ہوتا ہے اور غیریت جاتی رہتی ہے اور جنس کو جنس سے تعلق ہوجاتا ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کو انسان کی طرف کھینچتی ہے اور اس کی صفت رحیمیت انسان پر جلوہ کرتی ہے اور اس جلوہ کے ماتحت اس کا ثواب بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔وہ نماز ایک پڑھتا ہے تو ثواب سو کا ہوتا ہے اور اس طرح وہ کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے لیکن جو خود رحیم نہیں ہوتا وہ خواہ سارا دن نماز پڑھتا رہے وہ وہی کا وہیں رہتا ہے۔صرف اسی شخص کے حق میں کہ جو خود رحیم بنتا ہے خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت جوش میں آتی ہے اور خدا تعالیٰ کہتا ہے مَیں بھی اسے بڑھ کر دوں اور ایسے شخص کو اعلیٰ مقام مل جاتا ہے لیکن جس کےاندر رحیمیت نہیں ہوتی وہ سارا سال نمازیں پڑھتا رہے تو بھی اسے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔مثلاً ایک روحانی مقام اگر پچاس سال کی نمازوں کے بعد ملتا ہو تو جو اپنے نفس میں رحیمیت پیدا نہیں کرتا وہ تو اگر ایک سال نمازیں پڑھے گا تو اس کا ایک ہی سال گذرے گا اورا نچاس باقی رہیں گے لیکن وہ جس میں رحیمیت کی صفت ہوگی ایک سال نمازیں پڑھ کے پچاس سال کا ثواب حاصل کرے گا کیونکہ اس کے نفس کی رحیمیت خدا کی رحیمیت کو کھینچے گی اور خدا تعالیٰ کی رحیمیت کا تقاضا ہے کہ بندہ کے تھوڑے کام پر زیادہ بدلہ اوربار بار بدلہ دے۔پس اس صفت کےذریعہ سے انسان تھوڑے عرصہ میں بڑے بڑے درجے حاصل کرلیتا ہے۔