انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 378

غرض حَبْلِ الوَرِیْدِ اس جگہ انسان کی زند گی کے سہارے کے معنی میں آیا ہے۔مگر اس کےغلط معنے لے کر کچھ کا کچھ بنا دیا گیا ہے۔اوریہ جو ان کی دلیل ہے کہھوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِن۰ۚ (الحدید : ۴)وہی شروع ہے اور وہی آخر اور وہی اندر ہے اور وہی باہر ہے۔اس سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ سب جگہ خدا ہی خدا ہے یہ دلیل بھی بالکل غلط ہے کیونکہ اول اور آخر اور ظاہر اورباطن چاروں الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کچھ اور بھی ہے اگر غیر کوئی ہے ہی نہیں تو پھر اوّل کہنے اور آخر کہنے کی کیا ضرورت تھی اور ظاہر کہنے اور باطن کہنے کی کیا ضرورت تھی پھر تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہی وہ ہے اور کچھ نہیں۔اس آیت کا صر ف یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ محیط ہے۔یہ نہیں کہ سب کچھ اللہ ہی اللہ ہے۔اندر اورباہر کے الفاظ بھی اور اوّل اور آخر کے الفاظ بھی احاطہ پر دلالت کرتے ہیں۔پس یہ آیت یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے ساتھ تمام چیزوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔آیت لِلہِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ(الرعد:۱۶)کے معنے یہ ہیں کہ ہر چیز خدا کی فرمانبردار ی کر رہی ہے۔سجدہ کےاصل معنی فرمانبرداری کے ہیں اور زمین پر سر رکھنے کے معنے مجاز اً بنتے ہیں اور فرمانبرداری کےلحاظ سے کوئی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے باہر ہے؟ دنیا کا ایک ایک ذرّہ خدا کی فرمانبرداری کررہا ہے۔مثلاً زبان ہے اسے اگر میٹھا دوگے تو میٹھا چکھے گی اگر کڑوا دوگے تو کڑوا چکھے گی یہ الگ بات ہے کہ وہ خدا کا انکار کردے۔مگر جو کام خدا نے اس کا مقرر کیا ہے اسے نہیں چھوڑ دکتی اوراس میں نافرمانی نہیں کرسکتی۔باقی رہا یہ کہ انسان خدا کی نافرمانی بھی کرتا ہے سو سوال یہ ہے کہ کس جگہ نافرمانیکرتا ہے وہیں جہاں خدا نے اسے مقتدرت دیکر امتحان کی غرض سے آزاد چھوڑ دیاہے پس جس امر میں خدا تعالیٰ نے کو د انسان کو مقدرت دیکر امتحان کے طور پر آزاد کیا ہے انسان کی اس نافرمانی کی وجہ سے ہم یہ ہرگز نہیں کہہ سکتےکہ کوئی چیز خدا کی فرمانبرداری سے باہر ہے کیا ابوجہل اور فرعون خدا کے بنائے ہوئے قانونِ قدرت کی فرمانبرداری کرتے تھے کہ نہیں؟ اگر کرتے تھے توسب خدا ک فرمانبردار ہیں۔یہ لوگ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ جب خدا ہی سنتا اوردیکھتا ہے تو معلوم ہوا کہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے۔کیونکہ سنتے اور دیکھتے ہم بھی ہیں۔اگر ہم خدا نہیں تو یہ آیت غلط ہوجاتی ہے۔حالانکہ اس آیت سے بھی یہ نتیجہ نکالنا غلط ہےکیونکہ جو چیز کسی کی دی ہوئی ہو