انوارالعلوم (جلد 6) — Page 379
وہ دراصل اس کی ہوتی ہے پس جب نظر خدا کی دی ہوئی ہے جس سے ہم دیکھتے ہیں اور سننے کی طاقت بھی اس کی دی ہوئی ہے جس سے ہم سنتے ہیں تو خدا ہی سنتا اور دیکھتا ہے۔تائیدی آیات قرآنی پھر اسکے مقابلہ میں ہم دوسری آیات دیکھتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انکی یہ سب باتیں غلط ہیں خدا تعالیٰ اپنی ہستی کے متعلق فرماتا ہے۔لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ کہ اس جیسی کوئی اور ہستی نہیں کوئی چیز خدا کے مشابہ نہیں ہم کہتے ہیں اگر کوئی چیز ہی دنیا میں نہیں بلکہ سب کچھ خدا ہی خدا ہے تو لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ(الشوریٰ:۱۲)کا کیا مطلب ہوا؟ وحدت الوجود والے کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز نہیں سب کچھ ایک ہی ہے ہم کہتے ہیں جب ایک ہی ہے تو یہ کہنے کا کیا مطلب کہ خدا جیسی کوئی چیز نہیں۔دوسری آیت یہ ہے فَاِنَّھمْ عَدُوٌّ لِّيْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ۔(الشعراء)خدا کے سوا جو معبود سمجھے جات ہیں وہ سب میرے دشمن ہیں کیونکہ میں انکا مخالف ہوں۔اب اگر معبود ان باطلہ بھی واقعہ میں اللہ تھے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ مقیدشکل میں تو وہ دشمن ہیں اور مطلق میں دوست مگر یہ معنے بالبداہت باطل ہیں۔تیسری آیت جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے سوا بھی اور چیزیں ہیں یہ ہے قُلْ اَفَغَيْرَ اللہِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ اَيُّھا الْجٰھلُوْنَ (الزمر: ۶۵)اےجاہلو ! کیا تم خدا کے سوا دوسری چیزوں کی عبادت کے لئے مجھے کہتے ہو؟ اس آیت میں ان وجودوں کو جنہیں بُت پرست پوجتے تھے غیر اللہ کہا گیا ہے۔چوتھی آیت یہ ہے وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَيَسُبُّوا اللہَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ۔(الانعام:۱۰۹)کہ ان معبودوں کو جن کی یہ خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں گالیاں نہ دو ورنہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کو دشمنی کے جذبات کے ماتحت جہالت ونادانی سے گالیاں دینے لگ جائیں گے۔اب ہم پوچھتے ہیں اگر وہ بھی خدا ہی ہیں تو مِنْ دُوْنِ اللہِ کیوں کہا؟اوراگر کہو کہ چونکہ مُشرک ان کو مِنْ دُوْنِ اللہِ کہتے تھے اس لئے ان کو ان کے عقیدہ کے ماتحت مِنْ دُوْنِ اللہِ کہا گیا ہے۔تو پھر یہ سوال ہے کہ بہت اچھا مِنْ دُوْنِ اللہِ توان لوگوں کے عقیدہ کی وجہ سے کہا مگر پھر یہ کیوں فرمایا کہ ان معبودوں کو گالیاں نہ دو ورنہ وہ خدا کو گالیاں دینے لگ جائیں گے یہ کیوں نہ کہا کہ ان معبودوں کو گالیاں نہ دو کیونکہ وہ بھی درحقیقت خدا ہی ہیں گو یہ نادان مشرک ان کو مِنْ دُوْنِ اللہِ سمجھ کر ان کی پرستش کر رہے ہیں کیونکہ خدا کے کسی حصّہ کو اس لئےگالی دینا منع نہیں کہ کوئی